ویسے تو کئی بلوچ شعراء نے بلوچی زبان کے ساتھ اُردو میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن عطا شاد واحد بلوچ شاعر ہیں جن کی اُردو شاعری کو ہم کسی بھی اچھے اُردو شعرا ء کی شاعری کے مقابل پیش کرسکتے ہیں۔ آپ کے اشعار میں خیال کی گہرائی و ندرت ہی نہیں فنی پختگی بھی ہے جس کی بلوچ شعراء کی شاعری میں کمی ہے ۔
۔ محترم زاہدہ رئیں راجی کے کی زیر نظر غزل [دعا ]پڑھ کر عطا شاد اس لیے یاد آئےکہ ان اشعار میں بھی فنی پختگی کا معیار وہی ہے جو کسی بھی پختہ و فنکار شاعر کی شاعری میں ہوسکتا ہے ۔ بس '' آشنائی '' کو دومرتبہ قافیہ کرنا فن شاعری سے واقف ناقدین کو یہ کہنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے کہ '' قافیہ کی تکرار ہوئی ہے ۔'' شاید شاعر[فارسی اہل زبان شاعراور محترم جیسے الفاظ کو خواتین کے لیے بھی بغیر''ہ''اضافہ کیے استعمال کرتے ہیں ]کے لیےایک ہی قافیہ میں دو مختلف مضامین میں انتخاب کرنا مشکل تھا اس لیے انہوں نے دونوں ہی مصرعے اپنے غزل میں شامل کیے ، پھربھی یہ بات اپنی جگہ درست مانی جاءے گی کہ قافیہ اور الفاظ کی تکرار شاعری کی خوبصورتی کو گہنا دیتی ہے۔ پھر دونوں مصرعوں میں خیالات کا تضاد بھی عجب سماں باندھ رہا ہے۔ایک میں شاعر ٹوٹ کر بکھرنے سے خوف زدہ ہیں دوسرے میں مستحکم لہجے میں اپنے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹنے کے ہنر سے آشنائی چاہتے ہیں ۔ مطلع کے بعد کا مصرع خوف کی بجائے زندگی سے نبرد آزما رہنے اور غم واندوہ کے باوجود اپنے وجود کو قائم رکھنے کا خیال جگاتا ہے اس لیے بعد والے مصر عے سے زیادہ موزوں ہے۔