Baask- Home of Balochi Language, Literature & Culture

Non-Baluchi Litrature در بلوچی زبانانی ادب => ھندی / اردو Urdu / Hindi => باسکانی دیوان کے اُردو شعراء اور لکھاری => Topic started by: Imtiaz Irani on October 11, 2012, 04:07:43 AM

Title: میرے شہر کی سونی سڑکوں پہ آج موت کا سا سناٹا ہے
Post by: Imtiaz Irani on October 11, 2012, 04:07:43 AM

میرے شہر کی سونی سڑکوں پہ
آج موت کا سا سناٹا ہے
میری دھرتی کے کوہ و دامن
اور بستیوں کے در و دیوار

مادر وطن کا چھپہ چھپہ
ٌاج پل پل آہیں بھرتی ہیں
اُن بیتے دنوں کی یاد میں
اب ہر پل اشک بہاتی ہیں

جب دھرتی کے جیالے جوان
مست دھنوں پہ آزادی کے
ڈھول کی تھاپ پہ رقص کناں
ہر سو رونق پھیلا تے تھے

میری دھرتی کے ان جیالوں کو
آج قابض سر راہ اٹھاتا ہے ،
اور ماں کی ضعیف آنکھوں کو
انتظار کا تحفہ دے جاتا ہے

بے قرار سے اس کی آنکھیں پھر
صدیوں دروازے کو تکتی ہیں
گوہ لخت جگر کی مسخ لاش
ویرانے سے کبھی مل جاتی ہے

میرے شہر کی آزاد فضائوں میں
قابض ،موت کی ہولی کھیلتا ہے
آہ! اہل وطن پہ تاری بس
اک موت کا سا سناٹا ہے