Baask- Home of Balochi Language, Literature & Culture

Non-Baluchi Litrature در بلوچی زبانانی ادب => ھندی / اردو Urdu / Hindi => باسکانی دیوان کے اُردو شعراء اور لکھاری => Topic started by: Imtiaz Irani on October 11, 2012, 04:20:16 AM

Title: وہ عہد آج بھی قائم ہے۔
Post by: Imtiaz Irani on October 11, 2012, 04:20:16 AM
“وہ عہد آج بھی قائم ہے۔”

میرے ذہن کے ان دریچوں میں
تِری یادیں ہر سو بکھری ہیں
اور میرے دل کی رہگزروں پہ
تجھ سے جڑے عہد کا پہرا رہتا ہے۔
،ہاسٹل کی در و دیواروں میں
تیرے قہقہوں کی گونج آج بھی باقی ہے
،اُن کینٹینوں کے چھت تلے
،جو ہم نے تھا کچھ عہد کیا
،وہ عہد آج بھی قائم ہیں
وہ وعدہ ہم آج بھی نبھاتے ہیں۔
،تیری پیاری سی وہ باتیں سب
،آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں
،میری تنھائی کی وہ ساتھی ہیں
اور من کو مرے لبھاتی ہیں۔
،میں ابھی اُسی رستے کا مسافر ہوں
،جس کے ہم تم راہی تھے
،تری روح آج بھی ہے ہمسفر
،بس جسم ہی میرے ساتھ نہیں
،وہ جسم کی ڈور جنہوں نے کاٹی ہے
،کوئی اُن سے جاکہ پوچھے تو
،روح کی ڈور کو کیسے توڑیں گے
کہ جس کو قدرت نے جوڑا ہے۔