Author Topic: میرے خوابید ارماں جگائے گئے  (Read 1717 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline hafiz_aaskani1

  • Baask Poet
  • ***
  • Posts: 195
  • Karma: 18
میرے خوابید ارماں جگائے گئے
« on: June 28, 2010, 12:23:25 AM »

(1)معجزے عشق کے کیا سنائے گئے
      میرے خوابید ارماں جگائے گئے

(2)تو   زبانِ    نگہ   سے  ہے نا  آشنا
    ورنہ کیا کیا  نہ  تجھ  کو بتائے گئے

(3)ان کے چہرے کے تیور بدلتے رہے
     انکو اشعار میرے سنائے گئے

(4)تب خرد کی نہیں چل سکی ایک بھی
    معجزے جب جنوں کے دکھائے گئے

(5)تھیں مذبذب نگاھیں زباں تھی رواں
    جانے کیا تھے جو ھم سے چھپائے گئے

(6)جانے کیسی بلا کی ہے پیشنگوئی
    میرے رستے کے کانٹے ہٹائے گئے

(7)انکی فطرت ہے جدت پسندی عطا
      ہم پرانے تھے آخر بھلائے گئے


Moajize ishq ke kiya sunae gae(1)
    Maere khwabeeda armaan jagae gae

(2)Too zubaan e nigah se hai naa aashnaa
       Warna kiya kiya na tujh ko bataae gae

(3)un ke chehray ke taiwar badalte rahe
    Un ko ashaar mere sunae gae

(4)tub khirad ki nahi chal saki ek bhee
    Moajize jub junoon ke dikhae gae

(5)theen muzabzab nigaahen zubaan thee rawaan
    Jaane kiya thay jo hum se chhupae gae

(6)jaane kaisi balaa kee hai peshinguee
    Mere raste ke kaante hataae gae

(7)un ki fitrat hai jissat pasandi Atta
    Hum purane the aakhir bhulae gae    
يا رب‏!‏ مناهماياني ردء بكن كه ترا دوست انت

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7078
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
Re: میرے خوابید ارماں جگائے گئے
« Reply #1 on: June 28, 2010, 08:10:17 AM »
برادرم حافظ عطا آسکانی!
پُر خلوص تسلیمات،
آپ کی یہ دلکش غزل بہت پسند آئ ہے سو دلی داد پیشِ خدمت ہے۔
یوں تو تمام ہی اشعار اچھے ہیں لیکن درجِ زیل اشعار بہت پسند آئے۔
(6)جانے کیسی بلا کی ہے پیشنگوئی
    میرے رستے کے کانٹے ہٹائے گئے

(7)انکی فطرت ہے جدت پسندی عطا
      ہم پرانے تھے آخر بھلائے گئے

اس شعر پہ زرا نذرِ ثانی فرماتے تو بہتر تھا۔
اُنکے چہرے کےتیور بدلتے رہے
     انکو اشعار میرے سنائے گئے

یہاں ان کے اور انکو کہ بیک وقت موجودگی سے شعر کی شعریت مُتاثر ہو گئ ہے۔
دوسرا مصرعہ سپاٹ ہو گیا ہے۔
یعنی جب آپ نے کہا ” بدلتے رہے “ تو مطلب اگلے شعر میں ”جب“ کی ضرورت پیش آئ

 ذرا یوں کر کے دیکھیے:

اُنکے چہرے کےتیور بدلتے رہے
شعر میرے انہیں جب سُنائے گئے

باقی راوی چین ہی چین بولتا ہے۔
خُدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

خیر اندیش

Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line

Offline hafiz_aaskani1

  • Baask Poet
  • ***
  • Posts: 195
  • Karma: 18
Re: میرے خوابید ارماں جگائے گئے
« Reply #2 on: July 11, 2010, 08:49:55 PM »
برادرم حافظ عطا آسکانی!
پُر خلوص تسلیمات،
آپ کی یہ دلکش غزل بہت پسند آئ ہے سو دلی داد پیشِ خدمت ہے۔
یوں تو تمام ہی اشعار اچھے ہیں لیکن درجِ زیل اشعار بہت پسند آئے۔
(6)جانے کیسی بلا کی ہے پیشنگوئی
    میرے رستے کے کانٹے ہٹائے گئے

(7)انکی فطرت ہے جدت پسندی عطا
      ہم پرانے تھے آخر بھلائے گئے

اس شعر پہ زرا نذرِ ثانی فرماتے تو بہتر تھا۔
اُنکے چہرے کےتیور بدلتے رہے
     انکو اشعار میرے سنائے گئے

یہاں ان کے اور انکو کہ بیک وقت موجودگی سے شعر کی شعریت مُتاثر ہو گئ ہے۔
دوسرا مصرعہ سپاٹ ہو گیا ہے۔
یعنی جب آپ نے کہا ” بدلتے رہے “ تو مطلب اگلے شعر میں ”جب“ کی ضرورت پیش آئ

 ذرا یوں کر کے دیکھیے:

اُنکے چہرے کےتیور بدلتے رہے
شعر میرے انہیں جب سُنائے گئے

باقی راوی چین ہی چین بولتا ہے۔
خُدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

خیر اندیش


بانکییں گہار راجی
پر خلوص تسلیمات
آپ کی ہمت افزائی پر دلی مسرت کا احساس بہت ہی دلفریب تھا، بہت بہت شکریہ۔
اور آپ نے میرے اس شعر پر
 
ان کے چہرے کے تیور بدلتے رہے
ان کو اشعار میرے سنائی گئے

جو تجویز دی اس کیلئے  بھی بہت بہت شکریہ
حقیقتا مجھے بھی اس کمی کا احساس ہوا جس کا تذکرہ آپ نے فرمایاتھا ۔ پر میں  اسے صحیح کرنے سے قاصر رہا،
اور ہم آپ سے اور تمام اہل قلم سے اسی رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔

حافظ آسکانی
يا رب‏!‏ مناهماياني ردء بكن كه ترا دوست انت