Author Topic: عطاشادسے منسوب ادارے و مقامات  (Read 3572 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7089
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
عطاشادسے منسوب ادارے و مقامات
« on: February 12, 2013, 10:50:22 PM »

عطاشادسے منسوب ادارے و مقامات
شعیب شاداب............................
عظیم شخصیات کے نام مقامات اور اداروں کو منسوب کرنے کی روایتیں بہت پرانی اور تاریخی ہیں۔جس کا مقصد اُن سے عقیدت اور محبت کااظہاراور اعزازکے طور پران کے علمی، سماجی، سیاسی ، قومی ،تاریخی اور ادبی کارناموں کا اعتراف کرنا ہوتا ہے۔ دنیاکے تمام معاشروں میں قومی شخصیات سے عقدت و احترام کرکے گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر پر بڑے بڑے اداروں ، سڑکوں اور تفریحی مقامات کو اُن کے ناموں سے منسوب کی جاتی ہیں۔تاکہ اُن کی کارکردگی کو زندگی بھر نیک تمنّاؤں کے ساتھ رہتی دنیاتک یاد کیاجاسکے۔ عطاشاد بلوچستان کے اُن عظیم شخصیات میں سے ہیں کہ گورنمنٹ آف بلوچستان اور عوام نے اُن سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرکے اُن کے نام سے کچھ ادارے منسوب کررکھے ہیں ۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
 
۱۔ عطاشاد آڈیٹوریم ادارہ ثقافت ، کوئٹہ
عطاشاد پہلی مرتبہ 1982تا1986اور دوسری مرتبہ 1989تا1990میں بطور صوبائی سیکرٹری کھیل و ثقافت کی حیثیت سے اپنے سرکاری فرائض سرانجام دے چکے تھے ۔اورادارہ ثقافت بلوچستان میں خاص مواقع پر محفل موسیقی، مشاعرے اور دیگرثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرکے ادارے کو کافی فعال بناچکے تھے۔اس کے علاوہ وہاں دوستوں کے ساتھ ہر وقت بیٹھ کر نجی ،ادبی اور علمی مجالس سجایاکرتے تھے۔اُن کی وفات کے بعد صوبائی گورنمنٹ نے ان کے اعتراف فن اور ادارے کے لیے اُن کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کو مدّنظررکھتے ہوئے ادارہ ثقافت بلوچستان کوئٹہ کی عمارت کے اندر موجودہال کو عطاشادکے نام سے منسوب کرکے اس کا نام عطاشادآڈیٹوریم رکھ دیا۔ادارہ ثقافت کی عمارت کوئٹہ میں جناح روڈ پر واقع ہے۔
 
۲۔عطاشاد ڈگری کالج ،تربت
تعلیمی اداروں کو معروف شخصیات کے نام منسوب کرنے کی روایتیں ہرملک میں موجودہیں۔ اسی طرح گورنمنٹ آف بلوچستان نے عطاشادکی وفات کے کچھ سال بعدضلع کیچ کے واحد ڈگری کالج کا نام گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سے تبدیل کرکے عطاشادکے نام سے منسوب کردیا۔جس کو ایک تاریخی کارنامہ کہاجاسکتاہے کہ اُن کے شہرکے سب سے بڑے تعلیمی ادارے کو اُن کے نام سے پہچاناجاتاہے۔جس سے گورنمنٹ آف بلوچستان کی عطاشادسے عقیدت کا پتا چلتاہے ۔یہ کالج تربت کاسب سے پرانا تعلیمی ادارہ ہے۔جہاں گریجویٹ تک تعلیم حاصل کی جاتی ہے۔ ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے اس کالج میں اساتذہ کی رہائش گاہیں، طلبہ کے ہاسٹلز اور کھیل میدان بھی ہیں۔ گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تربت ،شہرسے جنوب کی طرف سرکاری ایریامیں واقع ہے۔
 
۳۔ عطاشاد روڈ ،کوئٹہ
عطاشاد کوئٹہ کے جس سرکاری رہائش گاہ میں رہ چکے تھے وہ انسکمب روڈ پر واقع ہے۔ جہاں کوئٹہ کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر سمیت تمام صوبائی سیکرٹریوں اوربیوروکریٹس کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔ عطا شادسکریٹری کے عہدے سے لے کر وفات تک اسی روڈ پر رہائش پزیررہے۔اُن کی وفات کے کئی عرصے بعد اُن کے قریبی دوستوں نے اپنی طرف سے اُس روڈ کا نام عطاشادروڈرکھ دیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ وہاں ایک عرصے تک رہائش پزیررہ چکے تھے ۔چونکہ سرکارکی طرف سے باقاعدہ طور پر انسکمب روڈکو عطاشادکے نام سے منسوب کرنے کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ اسی وجہ سے یہ روڈ عطاشادکے نام سے زیادہ انسکمب روڈ کے نام سے مشہورہے۔
 
۴۔ عطاشاد اکیڈمی ،تربت
عطاشاد کے آبائی علاقے سنگانی سرکے چنداہلِ قلم نے عطاشادکی وفات کے کئی عرصے بعدشوکت حیات کی سربراہی میں بلوچستان اکیڈمی تربت سے علیحدگی اختیارکرکے عطاشادسے اپنے دلی عقیدت کااظہار کرکے اُن کے نام سے ایک ادبی اکیڈمی قائم کی جو ،ہر سال عطاشادکی برسی کو عقیدت و احترام کے ساتھ مناتی ہے۔ جس کے ماہانہ اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں جس میں تربت اور گردنواح کے شاعراور ادیب شرکت کرکے اپنی تخلیق پیش کرتے ہیں۔ تربت میں بلوچی ادب کو فروغ دینے کے لیے عطاشاداکیڈمی کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ عطاشاداکیڈمی تربت کے زیراہتمام ایک ماہانہ بلوچی رسالہ ’’ مچکدگ‘‘ کے نام سے شائع ہورہی ہے۔عطاشاد اکیڈمی تربت شہرکے وسط میں واقع ہے۔
 
۵۔ عطاشاد پارک، تربت
عطاشادکی وفات کے ایک سال بعد1998میں ضلع کیچ میں ڈپٹی کمشنرکی حیثیت سے تعینات نامورادیب عبدالکریم بریالے نے عطاشاد کے اعتراف فن اور اُن کی ابدی یادیں تازہ کرنے کے لیے ایک پارک کو ان سے منسوب کرلیااوراُس کا نام عطاشادپارک رکھادیا۔ پہلے یہ پارک ایک تفریح گاہ کی حیثیت اختیارکرچکا تھا لیکن تربت میں دوسرے شہروں کی طرح تفریح کا رجحان نہ ہونے کے باعث جلد ہی اُس کی رونقیں ماند پڑگئیں اوران کے جھولے اور تفریح کی غرض سے لگائے گئے دیگرقیمتی اشیاء وہاں سے غائب ہوگئے۔پانچ سال قبل تربت شہرکے مضافاتی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں نے آکروہاں جُھگّیاں تعمیرکرکے غیرقانونی رہائش اختیار کرلیں۔ اس کے بعد بلوچستان اکیڈمی تربت نے ایک صوبائی وزیرکے توسط سے وہاں ایک ہال تعمیر کرلیا اور اسی طرح عطاشادسے منسوب اس پارک پر بلوچستان اکیڈمی تربت نے اپنا باقاعدہ قبضہ جماکرپارک کی رونق اور حیثیت کو منہدم کردیا۔عطاشادپارک تعلیمی چوک کے قریب پسنی روڈ پر واقع ہے۔
 
۶۔عطاشادانگلش لینگویج سنٹر، تربت
کسی بھی ادارے کا نام کسی عظیم شخصیت کے ساتھ منسوب کرنے کا مقصد یا تو ادارے کوفعال اور مشہور بنانا ہوتاہے یا پھر اُس عظیم شخصیت سے عقیدت رکھنے کی غرض سے یا پھر قوم پرستی کے نظریے کے پیش نظر اداروں کے نام اُن سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے تربت میں انگلش لینگویج سنٹر کے قیام اور انگریزی زبان کی تعلیم کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔اور بے شمارانگلش سنٹرزانگریزی ناموں کے ساتھ وجود میں آئے ہیں۔ تین برس پہلے عطاشادسے عقیدت رکھنے والے چند طلباء نے تربت شہر کے مضافاتی علاقہ چاہسرمیں اپنی مدد آپ کے تحت ایک پرائیویٹ انگلش لینگویج سنٹرقائم کیا اوراس کانام عطاشاد انگلش لینگویج سنٹر رکھ دیا۔ عطاشادکے نام سے منسوب انگریزی زبان کی تعلیم و تربیت کا یہ سنٹر چاہسرمیں ائیرپورٹ روڈ پرواقع ہے۔
 
۷۔تجویزعطاشاد یونیورسٹی، کیچ
عطاشادکے نام سے کوئی بھی یونیورسٹی منسوب نہیں ہے البتہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اپنے رسالے ماہنامہ سنگت فروری 2000کے اداریہ میں گورنمنٹ کو ایک تجویز پیش کی ہے۔جس میں انہوں نے عطاشاد کے آبائی شہر تربت میں ان کے نام سے منسوب ایک نئی یونیورسٹی کے قیام کے عمل پر زور دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کا خیال ہے کہ بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کی شرح خواندگی نہ ہونے کے برابرہے اور کوئٹہ میں قائم بلوچستان یونیورسٹی مکران سے بہت فاصلے پر ہے اور وہاں کے طلباء کو یہاں پڑنے کے لیے کافی خرچے اٹھانے پڑھتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری کا خیال ہے کہ اکیسویں صدی میں جدید موضوعات درآئے ہیں اور فرسودہ شعبوں کا خاتمہ ہوچکاہے ۔ نئی اور جدید تعلیمی مضامین کے باعث دنیاکا نقشہ بدل گیاہے مگر بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ ابھی تک کولڈوار کے عہد کے موضوعات کی جگالی کررہی ہے۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری عطاشادیونیورسٹی تربت کا جوازبیداکرنے کے لیے بلوچستان یونیورسٹی کی ساخت ،انتظامیہ اور تعلیمی میعارپر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’یونیورسٹی مکمل طورپر تباہ کردی گئی ہے اس میں جاہ طلب، شہرت کے بھوکے،موقع پرست،اور معاشی طور پرکرپٹ عنصر طلباء تنظیموں کی بلیک میلنگ، سفارشوں اوررشوتوں کے ذریعے گھس چکاہے ۔اس کے رگ و ریشہ مفلوج کردیئے گئے ہیں اور اس کی تعلیمی کوالٹی ذلّت کی حد تک پست ہوچکی ہے‘‘ اُن کا کہناہے کہ عطاشادسے منسوب ایک نئی یونیورسٹی کا قیام وقت کا تقاضا ہے اور کیچ میں اس کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے دیگر تمام علاقوں کی نسبت سے مکران زیادہ تعلیم یافتہ ہے اور وہاں ایک اچھا تعلیمی رجحان اور ماحول پایا جاتھاہے۔اور وہاں کے لڑکے اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔اُن کا خیال ہے کہ پڑوس میں خلیجی ممالک واقع ہیں اور وہاں مکرانی بلوچوں کی ایک بڑی اکثریت رہتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتی ہے۔ اور ایرانی بلوچستان کے لوگ بھی علم کے پیاسے ہیں ،اسی لیے عطاشادیونیورسٹی کیچ مکران کی ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7089
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
Re: عطاشادسے منسوب ادارے و مقامات
« Reply #1 on: June 11, 2013, 11:20:09 PM »
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7089
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line