Author Topic: بلوچی زبان اور ادب: ایک جائزہ ۔ تحریر وتحقیق: رحیم بخش آزاد  (Read 2567 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7057
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture

بشکریہ : جان دشتی
 
بلوچی زبان اور ادب: ایک جائزہ
تحریر وتحقیق: رحیم بخش آزاد


مبارک ہیں وہ راوی، موسیقار و ڈوم فنکار جنہوں نے انتہائی احتیاط و محبت سے بلوچی کلاسیکی شاعری کو حفظ کیا اور شاعری کے اس ذخیرے کو مسلسل آئندہ نسلوں تک منتقل کیا۔ جس سے بلوچوں کو علوم و فنون کے قدیم دفینوں کی وسیع تر آگاہیاں ملیں۔ ابتدائی قبائلی دور کے اس صاحب فن دانشوروں اور شاعر حضرات نے بلوچی زبان و بلوچوں کی تاریخ کو ہزار ہا سال سے قائم رکھ کر بلوچوں پر عظیم احسان کئے۔رزمیہ، بزمیہ، و عشقیہ شاعری انہی عظیم فنکاروں کی مرہون منت ہے۔ فصاحت و بلاغت انہی کی قوت فکر و نظر اور ذہنی فراست کی مظہر و پروردہ رہی ہے یہ پوری قدیم شاعری سادہ، پر جوش اور حقیقت پر مبنی ہے۔ انہوں نے ایسی مناظر کشی کی ہے جیسے وہ خود میدان جنگ میں موجود ہیں لڑائیوں مین شامل ہین اور حملہ کے وقت سب سے آگے ہین اور کمنٹری کرتے جارہے ہین عشقیہ شاعری مین ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شاعر خود کسی محبوبہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہیں۔ موتک یا مرثیہ میں ایسے الفاظ لائے جیسے ان کا اپنا دوست یا عزیز فوت ہوگیا ہے۔ بلاشبہ یہ عوام کی شاعری ہے ان میں عوام کے دلوں کی دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔آج بھی عوام اپنی شبینہ محفلوں میں ان نغموں کو الاپتے ہیں تو وہ مسرت و روحانی فرحت و قلبی تسکین سے سرشار ہوجاتے ہیں۔ا ن اشعار میں آج بھی عوام کے دلوں کے تار چھیڑنے کی صلاحیت ہے۔ ان کا ہر مسرعہ چونکہ شاعر کے دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ہے اس لئے اب بھی دل پر اس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ صدیاں گزرجانے کے باوجود چاکرو گہرام، شے مرید وحانی، حمل و ماہ گنج و بالاچ گور گیج وغیرہ کی نظمیں بلوچوں کے جذبات کی ترجمانی ہیں۔ بدقسمتی سے کالونیل تسلط اور خارجی اثرات کے باعث یہ روایتی سلسلہ معدوم ہوتا گیا۔ تاہم پچھلی صدی تک بلوچی شعر گوئی کی روایات اتنی وسیع تھیں کہ صرف ڈیرہ غازی خان اور متصل علاقے میں ایم لانگ ورتھ ڈیمس نے بلوچی اشعار کے ایک اچھے خاصے ذخیرہ کو جمع کر کے اپنی کتاب”پاپولر پونٹری آف دی بلوچیز“ میں چھاپ دیا اور دوسری جلد میں اس کا انگریزی ترجمہ حواشی کے ساتھ دے دیا اس طرح لالہ ہیتھورام نے بلوچستان کے قبائل کی تاریخ اور ”بلوچی نامہ“ میں بلوچی دپتہ(نسب نامہ) کے کچھ اشعار چھاپ دیئے۔ لیکن یہ بہت ہی قلیل ذخیرہ تھا کہ جو دائرہ تحریر مین لایا گیا ۔ بعد ازاں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے کچھ گوہر قیمتی یکجا کر کے چھاپ دیئے لیکن اس سے کئی گان زیادہ اشعار جو بلوچ ذہین رادیوں اور فنکار ڈوموں اور فنکار موسیقاروں کو یاد ہیں۔ بے وسیلہ غریب بلوچ ان کو ضابطہ تحریر میں لانے کے لئے اس جدید دور مین بھی قاصر ہے۔ عام بلوچوں کی بڑی تعداد خشک بلند پہاڑوںاور چٹیل وسیع میدانوں کی سرزمین میں آباد ہے۔ جو ترقی پزیر اور پسماندہ ہے جہاں انسان روٹی اور روزی کے مسئلہ میں کچھ ایسا بے سدھ اور الجھا ہوا ہے کہ آسمان کی اور پر جگمگاتی شفق کو بھی وہ نظر بھر کر نہیں دیکھ پاتا۔ فطرت کی سرشاری اور انسانی زندگی کی سرمستیوں مین عام آدمی کا حصہ کم ہو کر رہ گیا ہے۔ قبائلی نظام کی جکڑ بندیوں کے محور پر گھومنے والے معاشرے کے غریب باسیوں کو ان کے آقاو ¿ں کے کاسریسوں نے بھوک اور مفلسی کو اپنی فلسفہ طرازی سے محترم اور مستحسن بنانے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کردی ہین تاکہ عام آدمی فن سانس کی طرح زندگی کے ساتھ ہے، وہ زندگی کے ہر موڑ پر اس کی عکاسی بھی کرتا ہے اور اس کو نئے موڑ بھی دیتا ہے تشخیص مرض بھی کرتا جاتا ہے اور مسیحائی بھی کرتا رہتا ہے۔ فن انسان کو نظر بھی بخشا ہے اور تخیل کا مجرم ، تصور کی دل کشی کا عارف اور نکات کا رمز آشنا بھی بناتا ہے۔ خانہ بدوشوں، شتر بانوں، دہقانوں اور چرواہوں کو نغموں سے فطری لگاو ¿ ہے ان کو بند اور محصور معاشروں کا باسی بنا کر ان کی فکر و نظر کو نغموں کی آزادیوں اور آسودگیوں سے کسی نہ کسی بہانے محروم رکھنے کی مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے کوششیں کیں اور فن کی کیف زائی کو فلسفہ طرازیوں کے ذریعے مسخ کرکے سرشاری کو عذاب میں لطف کو کرب میں تبدیل کرنے کی سعی لاحاصل کی۔ لیکن بلوچ بچوں کو سلانے، کپڑے سینے، چکی چلانے، بچے کی پیدائش پر، کسی کی یاد مین، کھیتوں میں، اونٹوں کے داروان میں، ریگستانوں کے سفر میں چروا ہے پہاڑوں کے دامن میں ، شادی میں گیت الاپتے رہے وہی صدیوں پرانے روایتی گیت جو قدیم و جدید شعراءنے انسانی بقاءکی راہ مین، سماجی ناہمواری، نا انصافی و غلامی کے سنگ گراں کو دور کرنے کے جہاد مین مصروف اپنے ہیروو ¿ں کی یاد مین رقم کئے تھے۔
ہر ہیرو ہو وہ فنکار جس کے پاس جذبہ بے اختیار تھا یہ جذبہ انہوں نے آویزش و کشمکش سے پیدا کیا اور اس کو بڑی مہارت و تکنیک سے مو ثر پیرائے سے نظموں میں ڈھالا جن میں پس منظر بھی ہے اور منظر کشی بھی تعیم اور رموز بھی جو کالو تیل اور قبائلی جبر کے بانجھ پن کے خلاف احتجاج بھی کرتے اور اس فرسودہ نظام کی بے چہرگی کا اظہار بھی کرتے، داخلی و خارجی واردات و معاملات کا حسن توازن و آہنگ بھی ہے۔ اور امن و آزادی ، انسان دوستی کے نغمے بھی جنہیں شعراءنے زندان کی اداس شام میں، محبت دلبراں میں یا محفل اہل جنون میں دلنوازی سے ترتیب دیئے جہاں انہوں نے رجائیت کے نئے باب کھولے۔ ظلمت کدوں میں دم توڑتی خواہشات ان کے جلومیں نئے جزبوں سے ہمکنار ہوئیں یہ شعراءجدوجہد کے ایسے پیامبر ہیں جنہوں نے امید و عرض تمنا کا دروازہ کبھی بند نہ کیا ہر کوئے جفا مین ان کی جہد مسلسل کی داستان دہرائی جاتی رہے گی۔ ان شعراءکا خیال نغمہ وشعر میں ڈھلا اور فکر ادب و جن کو نئے قالب عطا کر گیا ان شعراءکا رنگ اور خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی محسوس ہوتی ہے وسیع چراطاہ مین جب بارش کا موسم ہوتا ہے اور دشت و بیاباں وادیاں لالہ زار بن جاتی ہیں تو شعراءکا سگند بھینی بھینی سی ٹھری ہوئی اپنی تمام گھمبیر تا سے آہستہ آہستہ دلوں مین اترتی ہوئی آنکھوں میں نئے منظروں کو جنم دیتی ہے بارود کی مکدر فضاءہو یا زندان کی بیزار کن رات ان شعراءکے سخن ہر جگہ نئے چاند اتارتے ہیں۔

۔
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7057
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
ان کے آہنگ میں للکار بھی ہے سوزو یقین بھی، جہدو انقلاب کی گھن گھرج بھی ہے اور حس و محبت کی شیریں نوائی بھی ان شاعروں نے اپنی قدیم فصیح و بلیغ زبان میں شتر بانون ساربانوں اور گلہ بانوں کی تہذیب، تمدن معاشرہ و تاریخ کو رقم کیا ہے شاعرپہاڑون وادیوں اور دشت و صحرا مین اپنے مال و مویشی کے پیچھے گھومتا پھرتا وہاں پر بووباش رکھنے والے چرند و پرند کے علاوہ بادل بارش و کہر، بجلی کی چمک، تندو تیز آندھیوں اور جھکڑوں کے طوفان اور بھپری ہوئی پہاڑ، ندیوں کی طغیانی، موسم بہار کی پرکیف شب و روز، سبز گھاس، جنگلی پھولوں کی مہک کو اور پھر گرمیوں کے دن جب لوار (لو) شعلے برساتی ہوئی چلتی ہے اور سردیوں کا موسم جب گوریچ (شمال کی سرد ہوا) جو ہڈیوں کے گودے تک جمادیتی ہے۔ یہ تمام قدرتی مناظر جو اس کی آنکھوں کے سامنے رہے انہی میں سے وہ اپنی نگار شات، تصورات،تشیہوں، استعاروں کا انتخاب کرتا اور کمال چابک دستی سے ان کو اپنے اشعار کا جامہ پہنا کر نہایت خوبصورتی اور دل آرائی سے پیش کیا کرتا۔ ملا فاضل کہتا ہے(ترجمہ)
اے جاں یہ خموشی کیسی
جاناں یہ اداسی کیسی
تو ایک دھڑکتی لے ہے
نغمہ ہے سرورنے ہے
سنوارے تو پھواروں کا راگ
جھکے مرمریں گل اندام!
برفاب بدن
مہ پیکر
قندیل شب غم پرور
اک لطف نظر ہو ہم پر
ہم تیرے لئے دیوانے
جام ورک کہتا ہے

میری محبوبہ کو نج کی مانند
صبح اٹھ کے سیر کو نکلے
اور خراماں کبوتری کی طرح
مجھ کو اپنی ادا سے بہلائے
سوت کے بول ہیں جو پر مسرت تقریب میں گائے جاتے ہیں۔
اوستارہ سری
(اے سلمہ ستاروں سے مزین دوپٹے والی)
او ستارہ سری
مارڈالے گی یہ خوش خرامی تری
مست رفتار ہے جیسے کبک دری
ستارہ سری
ان سنوارے ہوئے گیسوو ¿ں کی قسم
تو ہے میرے خیالوں کی نیلم پری
اوستارہ سری
تیرا جوبن سنگھار
اور میرے لئے؟
اک قیامت ہے تیری کرم پروری
اوستارہ سری
تیرے ہاتھوں کی مہندی ہے افسوس رنگ
اور زلفیں گھٹاو ¿ں کی جادوگری
او ستارہ سری
تیرا رنگین ملبوس
کشکوگوری (ایک خاص بلوچی کشیدہ لباس پہننے والی)
تو چمکتے ہوئے چاند کی مانند ہے پری
او ستارہ سری
پاکستان کا رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جہاں بلوچ بڑی تعداد میں آباد ہیں بلوچ عظیم الشان حکومتوں کی بیرونی حدود میں رہنے کے باوجود اور بے فیض دشوار گزار خشک پہاڑوں ریگستانوں بے آب وگیاہ سرزمین سے قوت لایموت حاصل کرنے کے باوصف بلوچوں نے اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھا ہے اور اب بھی ایک مخصوص قوی اکائی کی حیثیت سے قائم ہیں۔ جس کی اپنی تہذیب اور زبان و روایات ہیں پاکستان میں بلوچ بلوچستان کے علاوہ سندھ پنجاب و سرحد میں بھی آباد ہیں بیرون پاکستان ایران افغانستان، عربستان، افریقہ و ترکمانستان، میں بلوچ بڑی تعداد میں آباد ہیں ”بلوچی“ بلوچوں کی زبان کا نام ہے قوم کا نام صرف بلوچ ہے ملک کانام بلوچستان ہے۔ ”مکرانی“ نہ تو کسی قوم کانام ہے اور نہ ہی زبان کا مکران بلوچستان کا ایک ضلع ہے جس میں باقی بلوچستان کی طرح بلوچ رہتے ہیں۔کسی فرد کو قوم یا زبان کے نقطہ نظر سے ”مکرانی“ کہنا غلط ہے ۔ بلوچی زبان کا موجودہ رسم الخط عریک ہے جسے خط نستعلیق میں لکھا جاتا ہے۔ بلوچی زبان مین مو ¿نث و مذکر نہیں ہے قدیم بلوچی شاعری پر فارسی رنگ غالب نہیں بلوچی نظمیں بالکل آسان صاف سیدھی اور براہ راست الفاظ میں لکھی گئی ہیں۔ 1905 ءمیں ایم لانگ ورتھ ڈیمس نے بلوچی شاعری کے منتشر جواہر پاروں کو یکجا کرکے اپنی کتاب” پاپولر ہوئٹری آف دی بلوچیز“ کے والیوم نمبر۱ اور نمبر۲ میں شائع کیا ہے ایک جگہ رقم طراز ہین کہ ”بلوچی نظمیں بلوچوں کے خطے اور قوم کی زندگیوں کی سچی واضح اور سیدھی سادھی عکاسی کرتی ہیں اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے اعلی و شاندار ہین شاعر فنکاری سے ایک نقشہ کھینچا چلا جاتا ہے جس سے چشم تصور محو حیرت بن جاتی ہے شاعر قبائلی جنگوں اور جنگی سورماو ¿ں کے کارناموں کا ذکر اس حسن و خوبی سے کرتا جاتا ہے کہ ان کی تمام تر حرکات و سکنات کا نقش پڑھنے والوں کے ذہنوں میں اجاگر ہوجاتا ہے۔
قدیم شاعری میں نبرد آزمائی ، فتح و نصرت، شجاعت، جذبہ انتقام، رومان پروری اور میر چاکر، میر گہرام میر بجار، حمل حبیئد پیرو شاہ، بیرک، رامین، شھداد،جاڑو، ریحان، میر جان، نو بندگ ، بیورغ، ملک سہرب، بابر، غازی خان، فتح خان، گاجیان دودائی۔ حسن، دودوا اور بالاچ کے کارناموں سے پر ہے۔
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 7057
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture

بلوچی ادب میں اب تک ہمیں فقط پندرھویں صدی کے بعد کے شہری ادب کا سرمایہ ہاتھ لگا ہے البتہ پندرھویں صدی سے پہلے کہ دو ہے، لوک گیت، کھیلوں کے گیت اور پہیلیوں وغیرہ کا کچھ حصہ بھی لوگوں کو زبانی یاد ہیں۔ جن کوضبط تحریر میں نہیں لایا گیا ہے پندرھویں صدی اور اس کے بعد کے ادب و واقعات کا ذخیرہ ہمیں لانگورتھ ڈیمس، رچرڈ برٹن، میئر، فلائیر، لیچ، ڈاکٹر ڈارون، سرہنرپوٹنگر، چارلس میسن، میگروگر، پوسٹنس، پروفیسر منور سکی، منیر بیلی، ڈاکٹر گراشوچ ڈاکٹر جوزف، گل خان نصیر، میر شیر محمد مری، بشیر احمد بلوچ، عطا شاد اور عبداﷲ جان جمال دینی کے توسط سے دستیاب ہواہے اور نظریات کے مطابق اس وقت کے بلوچوں کی زندگی کے ہر پہلو پر طبع آزمائی کی گئی ہے ان میں بلوچوں کی حقیقت ہ ہجرت حسن و عشق کی داستان و تاریخ گیت رزمیہ واقعات، ماحول اور کرداروں کو لیلٹری ، لیلی مور، ڈیہی ، مورو، صوت، لاڈوک، ھالو۔پست، زہیروک، لیکو، موتک کے اضاف میں طربیہ ، ہجو، قصیدہ، حکایات روایات و واقعات کو قابل مطالعہ شکل مین پیش کرنا بھی شعراءکی جانگا ہی کی دلیل ہے رزمیہ اشعار کو بلوچ قوم کی افتاد طبع اور قومی روایات کے پیش نظر اولیت حاصل ہے جن کی مثال یونانی OHYSSEY اورILANDکی طرح ہے مغربی یورپ کے ڈاکٹر میسن اور ڈاکٹر گیگر نے اپنے عہدے کے بلوچستان اور وہاں کی زبان پر روشنی ترکمانستان کے علاقے مرو کے بلوچوں سے بلوچی لوک گیت جمع کئے اور ان کا ترجمہ1960 ءمیں روسی زبان میں چھاپا۔ 1959 ءمیں پیکولین نے ماسکو سے بلوچ نامی تحقیق کتاب چھاپی۔ الطبری، ابو شجاع ادھواری، بلال حسن محسن ، ابن مشکا دیہی اور فردوسی نے بلوچوں کا تذکرہ اپنے نگارشات میں کیا۔ جام ورک1740-1796) ئ)بلوچی زبان کے سب سے بڑے اور معتبر شاعر گزرے ہیں نثرو جدید نظم میں سب سے بڑا نام گل خان بصیر کا ہے قدیم شعراءمیں ملا فاضل ، ملک دینار، رحیم علی مری، مست توکلی، جو انساں، عزت بیگ، پنجکوری، ملا قاسم، ملا نور محمد، ملا اسماعیل، مندو کہیری، چکھا بزدار، مانے ہوئے استاد شعراءہیں موجودہ دور میں آزاد جمالدینی، محمد حسن عنقائ، آدم حقانی، عبدالصمد امیری، غفار ندیم، سید ظہور شاہ ہاشمی، عطا شاد، اکبر بارکزئی، ملک طوقی، مراد ساحر، بشیر بیدار، جی آرملا، قاضی مبارک، عیسیٰ قوی، شیر محمد مری، غنی پرواز، الفت نسیم، مومن بزدار، اﷲ بخش بزدار،بانل دشتیاری، احمد جگر، حضرت شاہ، مراد آوارانی، کریم دشتی، جان محمد دشتی، صدیق آزاد، ظفر علی ظفر، غلام فاروق، عبدالرحمن غور، میر مٹھا خان، غنی پرواز ، عبداﷲ جان جمالدینی، لالا غلام محمد شاہوانی، امان اﷲ لچکی، محمد بیگ، میر عاقل خان مینگل، حکیم بلوچ،صورت خان مری، انجم قزلباش، آغا میر نصیر خان احمد زئی، عزیر محمد بگٹی، واجہ ایوب بلوچ نے بلوچی زبان، ادب و تحقیق میں بہت بڑا مقام و نام پیدا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد ۹۴۹۱ءمیں ریڈیو پاکستان کراچی سے بلوچی زبان میں ۵۴ منٹ کی نشریات کا آغاز ہوا۔ کراچی میں1۵۹۱ءمیں سرچمک کے نام سے ایک ادبی تنظیم بنی۱۵۹۱ءمیں کوئٹہ میں بھی ”لٹ خانہ“ کے نام سے ایک ادبی تحقیقی تنظیم قائم ہوئی جس میں عبداﷲ جان جمالدینی (جو کافی عرصہ سے بلڈ پریشر کے مریض ہیں عبداﷲ جان صاحب آج کل کوئٹہ میں بلوچی اکیڈمی کے چیئر مین ہیں۔ پروگریسیو رائٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست ہیں۔ اکیڈمی ادبیات کے بزرگ اور ادبی تنظیم ”لوزچیدگ“ کے سرپرست اعلیٰ ہیں ان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یونیورسٹی میں بلوچی کی کلاسیں ہوتی ہیں۔
آج کل یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور بیمار ہیں۔) آزاد جمالدینی، گل خان شیرانی، ڈاکٹر خدائیداد، سردار بہادر خان جنگلزئی، حبیب اﷲ اور شیر محمد مری وغیرہ نے قائم کی۔ ایک ادارہ بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے نام سے سرداری خرچے پر بہت شاندار کام انجام دے رہا ہے۔اس اکیڈمی نے گرانقدر شہپارے شائع کرائے۔ بلوچی پبلیکیشنز نے کراچی سے گل خان نصیر کی کتابیں گلبانگ، شب گروک شائع کیں۔آج کل عزت اکیڈمی پنجگور آزاد جمال دینی اکیڈمی نے کراچی میں بلوچی زبان کی بہت سی کتابیں شائع کیں۔ فاضل اکیڈمی کراچی میں دو کتابیں مراد کی پہاڑ، احمد ظہیر کی زپتین ذھیر شائع کرکے بند ہوگئی۔ سید ہاشمی اکیڈمی کراچی میں ہے۔ لبذا مکی دیوان ہے۔ بلوچستان اکیڈمی مکران ہے۔بلوچی ادبی گل کراچی میں ہے اس کے علاوہ بلوچی ادبی سوسائٹیاں ملتان، انگلینڈ عرب امارات اور بحرین میں بھی قائم ہیں۔ ایرانی بلوچستان سے زریں نگار نے بلوچی گرامر، جالق داد آریا نے رسالہ ”مکران “ شائع کیا۔
۳۸۹۱ءمیں میجر گوکسٹن نے مسقط عمان سے بلوچی نظموں کی کتاب بمع انگلش اور عربی ترجموں کے ساتھ شائع کی۔ ۰۸۹۱ءمیں انہوں نے ایک بلوچی انگلش وعربی ڈکشنری بھی شائع کی۔ ۳۸۹۱ءمیں این اے کولیٹ نے بلوچی گرامر بھی ایک کتاب شائع کی۔ ماہنامہ بلوچی دنیا ملتان سے شائع ہوتا ہے۔ ملتان سے بلوچی زبان مین ریڈیو پاکستان ملتان سے پروگرام بھی ہوتا ہے۔ بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے ۱۶۹۱ءمیں عطا شاد اور عین سلام کا بلوچی عوامی گیتوں کا مجموعہ مع منظور اردو ترجمہ درین کے نام سے شائع کیا۔ درچین نامی ۱۶۹۱ءمیں جام ورک کے مجموعہ کلام کے بعد یہ بلوچی اکیڈمی کی یہ دوسری پیشکش تھی۔ ا س کے علاوہ ڈکشنری، گرامر قدیم شعراء، کلام، جدید شعراءکی تحقیق لوگ گیت، لوگ داستان تاریخ اور دو جلد میں بلوچی ادبی تاریخ ، انگریزی زبان میں شامل کئے۔
پرانے شعری ادب کے اضاف میں لیو (لوری) دو گال (دو مصرعوں والی) سوت (گیت) لیے شاعری (کھیل کے گیت) زہریگ (بچھڑے ہوئے عزیزوں دوستوں کی یاد میں حزن و ملال کے درد بھرے گیت) موتک (مرثیہ) نازینک (دولہا یا دلہن کی تعریف میں کہی گئی نظم) ہالو(یہ بھی نازنیک کی طرح ہے) صفت (زچہ و بچہ کے لئے چھ دن تک گائی گئی نظم)پست (اﷲ کے ذکر اور دعاویہ لمبی نظموں کو بھی کہا جاتا ہے۔)چاگان (مذہبی گیت) و غیرہ۔
ریڈیو پاکستان کراچی سے ۹۴۹۱ءمیں ۵۴ منٹ کی نشریات کا آغاز ہوا۔ جو ۶۵۹۱ءمیں بند کردیا گای اور ہنوز بند ہے آج کل کوئٹہ ٹی وی اور ریڈیو سے ملتان، تربت، خضدار ریڈیو سے بھی بلوچی پروگرام نشر ہوتے ہین ۲۵۹۱ءمیں بلوچی پروگرام نشر ہوتے ہیں ۲۵۹۱ءمیں بلوچی زبان کا پہلا ماہنامہ ”اومان“ کے نام سے جاری ہوا جو بلوچی اور اردو ذبان میں تھا۔ اس کے بعد ۶۵۹۱ءمیں کراچی سے مکمل بلوچی زبان مین نمائندہ رسالہ ”بلوچی“ کے نام سے جاری ہوا جو تاہنوز جاری ہے ۹۵۹۱ءمیں مستاگ کے نام سے بلوچی اکیڈمی کراچی نے ایک شعری مجموعہ شائع کیا جو جمعہ خان بلوچ اکبر بارک زئی اور مراد ساحر کی کوششوں کا ثمر تھا۔ اس میں گل خان نصیر، عبدالواحد آزات جمالدینی، سید ہاشمی، مراد ساحر، محمد اسحاق شہیم، عطا شاد، قاضی عبدالرحیم صابر، عبدالحکیم حقگو، ملک محمد طوتی، احمد زہیر، محمد حسن عنقا، ملک سعید ، انور شاہ قحطانی، شوکت حسرت، اکبرباز کزئی، احمد جگر، ناگمان جمعہ کلاچی، دوسرت محمد بیکس اور رونق بلوچ کے نمائندہ اشعار اور زندگی کے حالات شائع ہوئے اس کے بعد کراچی میں اکیڈمی نے شیر محمد مری کی کتاب ”بلوچی زبان وادبے تاریخ“ شائع کی مراد ساحر عبدالرسول نظامانی، واجہ محمد بیگ بلوچ، واجہ ملک محمد طوتی اور اکبر بارک زئی نے ۳۶۹۱ءمیں پہلا بلوچی قاعدہ زھگ بلد کے نام سے شائع کیا۔محمد سردار خان بلوچ نے ۸۵۹۱ءمیں تاریخ بلوچ انگریزی زبان میں تحریر کر کے کتابی صورت میں شائع کیا اور غلام محمد شاہوانی نے نوائے وطن نامی رسالہ شائع کی اس کے فوت ہونے کے بعد ملک محمد پناہ نے اس رسالے کو مسلسل شائع کیا۔ غلام محمد شاہوانی کوئٹہ کے بہت ہی ذہین صحافی بھی تھے جو وہاں سے مختلف وقتوں میں شائع ہونے والے تین اخباروں کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے نوجوانی میں اپینڈکس کی وجہ سے فوت ہوئے اس کا خلاءکبھی بھی پر نہ ہوگا بلوچستان میں اتنا ذہین، باکردار اور بہادر صحافی پھر نہ پیدا ہوا۔ ۱۶۹۱ءمیں کوئٹہ سے ”اویس“ کے نام سے بلوچی رسالہ حکومت نے شائع کیا۔کراچی سے ۸۶۹۱ءمین ایک پندرہ روزہ ”زمانہ“ شائع ہوا کوئٹہ سے اس زمانے میں ایک ہفت روزہ نوکیں دور شائع ہوا تھا۔ جسے شورش بابو عبدالکریم امن نے جاری کیا۔ جسے آج کل شاہ محمد مری شائع کرتے ہیں۔ اس رسالے کے موجودہ ایڈیٹر و پبلشر زیب النساءشورش ہیں۔ ۲۶۹۱ءمیں سید ظہورشاہ ہاشمی کی چار کتابیں چھپیں۔ ۳۶۹۱ءمیں کریم دشتی کی دو کتابیں شرد گداری اور مئے لوزانک چھپیں ۴۶۹۱ءمیں گل نصیر خان کی دوستین وشریں نامی خوبصورت شاندار منظوم داستان جس کا پیش لفظ آزاد جمالدینی نے تحریر کیا تھا۔۴۶۹۱ءمیں بلوچی اکیڈمی نے کوئٹہ نے کچین نامی کتاب ۰۷۹۱ءمیں ظہور شاہ کی ”میر گند“ نامی کتاب اور حاجی قیوم بلوچ کا قاعدہ”بلوچی زھگ بلد“ بلوچی بومیا ۸۶۹۱ءمیں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے گیدی قصہ کے نام سے دو کتابیں گشین کے نام سے ایک مجموعہ مضامین کا چھاپا بعد ازاں لغت اور تاریخ اور محاوروں کی کتابیں چھاپیں۔ شہر مرید و حانی،شہداد مہناز للہ و گراناز، دوستین شیرین، شاہ بیگ و گراناز، عزت ومہرک، کیا وسدو، سسی و پنوں، حمل و ماہ گنج کی عشقیہ داستانوں میں بہت سی داستانوں کو بڑی تحقیق کے بعد بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے چھاپیں۔ اس کے علاوہ یوسف عزیز مگسی نے آنے والی بلوچ نسلوں کے لئے ایسے نقوش یادگار کے طور پر چھوڑے ہیں جو یادگار ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کے بنیادی حقوق و خود مختاری کے حصول کی خاطر ایک انقلابی تحریک کی بنیاد ڈالی اس کے لئے مقالات و مضامین لکھے اور شاعری کی انجمن اتحاد بلوچاں کے نام سے ایک تنظیم بنائی اس کے بعد اسٹیٹ نیشنل پارٹی کا قیام عمل میں آیا یوسف عزیز مگسی کو ۰۳۹۱ءمیں شمس شاہ کے خلاف مساوات لاہور میں ایک مضمون لکھنے پر قید کی سزادی۔ انہوں نے ۳۶۹۱ءمیں جیکب آباد مین کل ہند بلوچ کانفرنس کا انعقاد کرایا جس کے اختتام پر عزیز مگسی کا مشہور قومی گیت گایا گیا۔۴۳۹۱ءمیں اسے لندن روانہ کردیا گیا۔ ۳۱ مئی ۵۳۹۱ءمیں کوئٹہ کے زلزلے میں انتقال فرماگئے۔ گل خان نصیر نے ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ااسے تخم آزادی قرار دیا۔علامہ اقبال کی مشہور نظم بڈھے بلوچ کی نصیحت بھی اس زمانے کی ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے اس پر ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا”انقلاب اور بلوچستان“
بلوچ معاشرہ بلوچ قوم اپنے جداگانہ مزاج و کردار کی بنا پر جدا گانہ ثقافت کی حامل ہے۔ جس میں بلوچی رسم افراد کی اجتماعی اختیار ات و خواہشات کی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ان میں ایک ہے بجار: یہ امداد باہمی کی رسم ہے۔ مہمان نوازی: قبائلی علاقوں میںمہمان پورے گاو ¿ں کا مہمان بن جاتا ہے سب باری باری اس کے لئے کھانے کا انتطام کرتے ہیں باہوٹ: پناہ پانے والے کی حفاظت فرض ہے خواہ دشمن ہی کیوں نہ ہو یہ رسم محروم بے بس اور مظلوم کے لئے نجات کا ذریعہ ہے۔ میار جلی یا پتر وچتر: اس میں عفو و درگزر کا جزبہ ہے اگر کسی قصور واریا مجرم خاندان کی ایک عورت متعلقہ فریاد خاندان کے گھر جائے تو اس کے قصور و جرم کو معاف نہ کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بیر: اس کے بارے مین ایک شاعر کہتا ہے کہ(ترجمہ) بلوچوں کا انتقام پتھر کی طرح سخت اور پائیدار ہے اگر کنویں کے اندر پتھر گھس سکتے ہیں تو بلوچوں کے انتقام کی آگ بھی ٹھنڈی پڑسکتی ہے۔
بلوچوں کا انتقام صدیوں تک دو دانتوں والی ہرنی کی طرح سدا جوان ہی رہتا ہے۔ بلوچی ادب قومی و خاندانی انتقام لینے کی لوریوں سے لبریز ہے شاعر کہتا ہے ترجمہ: میری اور تیری صلح گفت و شنید اسی وقت ممکن ہے جب گیدڑ مرغیوں کا پاسبان بنے پہاڑی چیتا اونٹوں کے گلے میں شامل ہوجائے۔ خونخوار بھیڑیئے مویشیوں کے نگہبان بنیں۔سمندر کی مچھلیاں خشکی پر آجائیں۔ روئی اور آگ کا میل ہوا گر یہ باتیں ممکن ہوسکتی ہے۔ سیاہ کاری: بلوچی رسوم کے مطابق بد چلنی کی سزا موت ہے۔ حال و جریاچہ جر: اس رسم کی وجہ سے بلوچ معاشرے کو حال رسانی و خبر رسانی کی سہولت حاصل ہوگئی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ پہلا مختصر حال و جر اور دوسرا تفصیلی حال و جر ہے۔ کسی اجتماع میں حال و جر پوچھنے کا ااستحقاق ہمیشہ خاندان ، قبیلہ یا گاو ¿ں کے ممتاز اور بزرگ ہستی کو حاصل ہوتا ہے اور باقی لوگ ہمہ تن گوش ہوکر حال سنتے ہیں نکان: شادی ہو یا مرگ یا بڑی اہم ضرورت کے موقع پر متعلقہ خاندان کے لوگ اپنا غلہ وغیرہ پسینے کے لئے دوسروں لوگوں میںبانٹ دیتے ہیں۔اس میں خاندان کے کسی فرد کی وفات یا موت پر ماتم کیا جاتا ہے ۔ جسے ”پرس “ کہتے ہیں۔ اعزاز ورفقاءاور دور نزدیک کے لوگ اظہار ہمدردی کے لئے متعلقہ خاندان کے ہاں جاتے ہیں۔ جسے ”پرس نامہ“ کہا جاتا ہے ماتم کے دوران خواتین نوحوں کی طرح اشعار پڑھتی ہیں۔ جنہیں ”موتک“ کہا جاتا ہے چند مصرعے ترجمہ: میری بخت کو سیمرغ نہیں لوٹاسکا۔ بھلا اس دور کے ملا کہاں لوٹا سکیں گے۔
دو مصرعہ ترجمہ: ہوا کتنی بھی چلے (قبر میں) تمہارے دل کو کوئی ہوا نہیں لگتی۔ بارش جتنی بھی برسے تمہارا دوپٹہ نم ناک تک نہیں ہوگا۔ ملا بہادر کے موتک کے چند بند: ترجمہ شیر ببر کی طرح نڈر داد کریم نے بچھو جیسی ڈسنے والی تلوار کمر باندھ لی۔ اور دودراز کے سفر روانہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ وہ ہندوستان پہنچ گیا اور وہاںموت کی تلخ شربت کاپیالہ نوش کیا۔ آفرین ہے ان ماو ¿ں کے دلوں کو کہ جن کے بیٹے ہندوستان میں سپاہی ہیں اور ہندی سندھیون کے ہم نوالہ او ر ہم پیالہ ہیں۔
مائیں ان بیٹوں کے لئے اور بیٹے ان کی ماو ¿ں کے لئے کونج کی مانند پہروں کو کوکتی ہیں اور رام شدہ شاتل (ایک پرندہ) کی طرح نالہ کش ہیں جب کبھی بچے کھیلتے کھیلتے اچانک یاد کرتے ہیں تو جیسے میرے دل کو ڈائنیں نوچ کر لے جاتی ہیں دیوان: شام کی بیٹھک ، جہاں بحث و تمحیص ہو، اہم فیصلے ہوں یا شعراءکا کلام سنایا جائے ساز و سرو دو نغمے الاپے جائیں، دیوان کہا جاتا ہے ۔ شادی بیاہ کے آخر ی دن ضیافت کو بھی دیوان کہا جاتا ہے۔ چوگان: یہ ایک قدیم بلو چی رسم ہے جسے بعد مین مذہبی شکل دے دی گئی ہے اس مین مذہبی شکل دے دی گئی ہے اس مین مذہبی شعر پر رقص کے قدیم مرتب کئے گئے اس میں بغیر ساز کے ہر ایک قسم کے اشعار کو ادا کرنے اور حرکات کے طریقے جدا جدا ہیں۔ اس مین شریک تمام لوگ ایک حلقہ بنا لیتے ہین اور درمیان میں خوش گلوشخص مخصوص انداز میں شعر پڑھتا ہے اور دوسرے مخصوص حرکات کے ساتھ ساتھ قدم بڑھا کر جواب دیتے ہیں۔ راجی زمین: جہاں زمین پورے قبیلے کی ملکیت ہو پیداوار مساوی تقسیم ہوتی ہو۔ آمین و پانچی: کھجور پکنے کے موسم کو ”آمین“ کہا جاتا ہے آمین کے دوران جو شخص کھجوروں کے باغات میں چلا جائے اس کے تھیلے کو کھجوروں سے بھر دیا جاتا ہے۔ اس رسم کو پانچی کہا جاتا ہے۔ آس و آپ : پانی کے اوپر جنگ کے زمانے میں کچھ ایسے نشانات چھوڑے جاتے ہیں جو قبائلی ”کوڈ ورڈ“ کا کام دیتی ہیں۔ رات کے وقت اگر ساتھی بچھڑ جائیں تو پہاڑ کی چوٹی پر آگ جلا کر پیغام دیا جاتا ہے۔ مجرم کی پہچان کے لئے اسے آگ کی آزمائش سے گزارا جاتا ہے۔ منگیر : ساحلی علاقوں میں اجتماعی شادی کی رسم کا نام ہے۔بلوچ عورت کی بہت عزت کرتے ہیں اس کو لڑائی کے دوران زک نہیں پہنچاتے۔ ان رسموں سے بلوچوں کی قومی کردار ان کی عمومی خصوصیات کا اظہار ہوت ہے۔ جو اجتماعی صورت میں بلوچ قوم کے افراد میں موجود ہیں۔ حریت و آزادی غیرت و حمیت، خودداری و عزت نفس شجاعت و بہادری بے خوفی و بے باکی، مہمان نوازی ا خلاص، پاسداری ، قول و رفاقت، ظالم سے عداوت، دوست وبہی خواہوںسے امن و آتشی شاعر کہتا ہے ترجمہ: پر امن بستیاں ویران ہیں ۔ خوشی و شادمانی کا راز توشیریں جنگوں میں پناہ ہے۔

بلوچی رزمیہ شاعری حقیقت میں منظور ڈرامے کی طرح ہیں شاعر خیالی اور افسانوی کرداروں کی بجائے زندہ متحرک اورجاندار کرداروں کا اپنا تا ہے۔ شاعر کے ساچنے کا پیمانہ اجتماعی ہے۔ اس کی نگاہ میں بے پناہ وسعت اور گہرائی ہے۔ رمزیہ شاعری میں نسوانی کردار اور مرد کردار بیک وقت سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً دودا کی رمزیہ داستان میں سپاہیانہ نبرد آزمائیوں کے ساتھ ساتھ نسوانی کرداروں کی بنیاد ی خصوصیات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے بی برگ و گراں ناز کی داستان میں مختلف النوع کرداروں کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے جیسے کہ جیتی جاگتی اور متحرک تصاویر نظر کے سامنے سے گزر رہی ہوں۔ اس داستان میں معشوق سے لے کر رقیب کی سیرت پر سیر حاصل تبصرہ ملتا ہے۔ اس داستان میں بی برگ کی شہرت ۔ اس کی تمام خوبیوں اور خامیوں پر تفصیلی اظہار موجود ہے کہ بی برگ انتہائی دلیر ہونے کے باوجود بشری کمزوریوں کا مظاہرہ کرت ہے۔اس میں میر چاکر کا تذکرہ اس طرح کیا ہے کہ اس کی عظمت بہادری اور ذہانت کا تصور خود بخود ابھر کر سامنے آتا ہے۔ بیشتر قدیم نظموں میں رند دلا شاریوں کی معرکہ آرائیاں شہہ مرید للہ گراناز بالاچ گور پگج دودا کے انتقام کی داستانیں ہیں قدیم بلوچ عشقیہ شاعری میں شہد ا دو مہناز للہ و گراناز، دوستین و شیریں بی برگ و گراناز عزت و مہرک حمل و مہ گنج، مست وسمہو، نتھا دیمک، کیا و سدو کی طویل منظوم داستانیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ ملا فاضل کے اشعار کے چند ملاحظہ ہوں ترجمہ:۔ کل میں شکار کی خاطر ایک معطر وادی کی طرف چل نکلا جہاں مجھے سیاہ سفید رنگ کے گورخر اور عقیق رنگ کے پہاڑی بکروں کا شوق لے چلا وہاں سے میں بلدن پہاڑوں کا نظارہ کرتے ہوئے اور سرسبز گھاٹیوں سے ہوتے ہوئے لوٹا اور ہرنوں کے لئے پر ذوق اور بے تاب نگاہوں کو تسکین دیتا رہا۔آج بادل پر بہار قندھار سے اٹھے پھر دلی کی اوپری اور کابل کی دوپہری ہواو ¿ں نے ان کو باری باری کاندھوں پر لیا۔پھر لاو ¿ لشکر کی طرح ملبار کی طرف یلغار کیا اور سارے راستے سمندر سے لب ملاتے ہوئے کل شام کو لوٹ کر سبی ڈھاڈر تک گزر گئے اور پھر گلزارٹھٹھہ پہنچ کر وہاں کے پر آب بانوں سے لے دے کی اور بلند ہو کر ہر دل آرام سرزمین پر چمکتے گرجتے برستے گزرے وادیوں اور سطح مرتفع پر کھل کر برس گئے۔ ان موسمی بارشوں کے بعد ہر جگہ سبزہ ہوگا گایوں اور بھیڑوں کے مالکوں کے دل خوشی سے اچھل پڑے اور جو کل بجلی تین بار وقفہ وقفہ کیساتھ موسلا دھار بارش کی علامت میں چمکتی رہی۔ اس نے مجھ سے ایک عزیز ترین دوست کو دل رنج کردیا۔ شدید غیر مستائی برسنے والی بوندوں نے محبوبہ کے چہرے پر نقاب ڈال دیا اور اس کو کرمانی کناویز(ریشمی قمیض) کے ساتھ بھگو دیا۔ اس کی گردن، تعویز اور زلفوں کو بھگو دیا۔ اس کی گردن، تعویز اور زلفوں کو بھگودیا۔ اس کے خراسانی ہار، صندلی چہرے کانوں کے چمکتے زیور، ہاتھ کے منقش کڑے، پاوں کے زیور بھگودیئے
Zahida Raees :Raji:
baaskadmin@gmail.com , admin@baask.com
Learn Baluchi Composing in INPAGE
Learn Balochi Poetry Background Designing
Help Line