Author Topic: خاکہ کیسے لکھیں۔ ممتار رفیق کی تحریر ۔ باسک کے قارئین کی نذر  (Read 155 times)

0 Members and 1 Guest are viewing this topic.

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 6836
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
خاکہ کیسے لکھیں
ممتاز رفیق

خاکہ لکھنے سے قبل ہمیں اس کے ہوم ورک پر کسی افسانے سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ۔افسانے میں ہم کردار تخلیق کرتے ہیں اور ان کا مزاج ، رویہ اور طرز زندگی اور عادت کا فیصلہ بھی ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے لیکن خاکے میں ہمارا واسطہ ایک جیتے جاگتے زندہ آدمی سے ہوتا ہے اور ہم جس فرد کو خاکہ لکھنے کے لیے منتخب کرتے ہیں وہ کوئی عام سا انسان نہیں ہوتا اس میں کوئی ایسی ٹیڑھ ہوتی ہے جو ہمیں اس پر خاکہ لکھنے پر اکساتی ہے، اور انسان سے بڑا بہروپیا شاید ہی کوئی ہو اگر اسے اندازہ بھی ہوجائے کہ اس پر خاکہ لکھا جارہا ہے تو وہ آپ کے سامنے خود کو ایسے پیش کرتا ہے جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا اسے دیکھے لیکن ظاہر ہے انسان عام طور پر اس سے بہت مختلف ہوتا ہے جیسا وہ نظر آتا ہے اس لیے مناسب تو یہ ہے کہ ہم جس پر خاکہ لکھنا چاہتے ہیں اسے اس کی ہوا نہ لگنے دیں اس سے ہمارا کام ممکن ہوجاتا ہے لیکن آسان پھر بھی نہیں ہوتاکیوں کہ میں نے جیسا کے عرض کیا انسان بہت گنّی اور اپنے حوالے سے بہت چوکنا ہوتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اچھا تاثر قائم کرسکے ۔ اب ایک خاکہ نگار کی حیثیت سے ہماری کام یہ ہے کہ ہم اپنے مشاہدہ اور توجہ سے اس کی ان باتوں پر نظر رکھیں جو وہ غیر شعوری یا غیر ارادی طور پر کہتا ہے۔اس صورت میں اس کا کہا ہر جملہ اس کی شخصیت کا کوئی نہ کوئی رخ ہم ہر کھولتا ہے اس کے علاوہ ردعمل، مسکراہٹ کاانداز، آنکھوں کے رنگ اور گفتگو کا انداز بھی اس کی شخصیت سے تعارف حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ اس کے لیے ہمیں اپنے ممدوح(جس کا خاکہ لکھنا مقصود ہو)کے ساتھ بہت سا وقت بظاہر بے نیازی لیکن اصل میں بہت چوکسی سے گزارنا پڑتا ہے۔
خاکہ نگار کا مرتبہ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا خاکہ اس کی مداح یا مذمت کے لیے لکھے۔ خاکہ نگار کو غیرجانب دار اور دیانت داری سے اپنے ممدوح کے حوالے سے مرتب کیے گئے نتائج کو کاغذ پر اس طرح تحریر کرنا چاہیئے کہ وہ کاغذ ہر زندہ چلتا پھرتا ،ہنستا،روتا اور سانس نظر آئے لیکن یہ بات میں نے جس سہولت سے کہہ دی ہے اس پر اتنی آسانی سے عمل ممکن نہیں اس کے لیے ایک طویل ریاضت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جب ہم خاکہ لکھیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہمارا ممدوح خیر اور شر کا ایک عجیب و غریب امتزاج رکھتا ہے اور جب ہم اسے سپرد قلم کریں تو ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ ہم اس کی شخصیت کے زیادہ سے زیادہ رنگ خاکے میں قید کرسکیں ۔ خاکہ ایک ساکت تصویر نہیں ہوتا جس میں انسان کا نظر آنے والا جسم تصویر کیا جائے خاکے میں ہمیں اپنے ممدوح کے باطن تک رسائی کی کوشش کرنی چاہیئے ممکن ہیں آپ سوچ رہے ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہے لیکن میرے تیس سالہ تجربے نے مجھے سکھایا ہے کہ یہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں ہے شرط صرف یہ ہے  کہ آپ اپنی تخلیق پر کس قدر محنت کا حو صلہ رکھتے ہیں ۔ اس مختصر تحریر سے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ خاکہ نگاری ایک ٹیڑھی کھیر ہے لیکن یقین کریں جب آپ خاکہ لکھنے میں کسی قدر قدرت حاصل کرلیں گے تو اس میں نہ صرف آپ کو لطف آنے لگے گا بلکہ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ انسان کیسی رنگا رنگ اور حسین مخلوق ہے اور کتنا کچھ تھا جو ابھی آپ کے تجربہ ہی میں ہی نہیں آیا تھا۔ خاکہ نگاری کہ لیے ضروری ہے کہ خاکہ نگار صبر اور استقامت سے انسان میں دل چسپی برقرار رکھ سکے کیوں کہ جب تک آپ کو اپنے ممدوح سے خصوصی دل چسپی نہ ہو تو ممکن نہیں کہ آپ اسے کھوج سکیں۔آئندہ کی گفتگو میں خاکہ کی تکنیکی ضرورتوں پر گفتگو ہوگی اور میں یہاں یہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس کے ادب کی دوسری تمام نثری اصناف سے مختلف تقاضے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ اگر کوئی اچھا نثار ہے تو وہ تمام ضروری تقاضوں کے ساتھ خاکہ تخلیق کرسکے یہ صنف اصل میں ایک الگ قسم کی دیوانگی چاہتی ہے ایک والہانہ لگاؤ تو جناب جن دوستوں کو خاکہ نگاری کا شوق ہے وہ پوری دل جمعی کے ساتھ آئیں کیوں کہ نیم دلی سے کوئی بھی کام تکمیل کیا ہی نہیں جاسکتا ۔میری اس تحریر پر اگر آپ کوئی سوال کرنا چاہیں تو مجھے خوشی ہوگی۔

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 6836
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
خاکہ کیسے لکھیں ۲
ممتاز رفیق

اپنی گذشتہ گفتگو میں ہم نے خاکے کے بنیادی تقاضوں پر بات کی اور ہم نے سمجھا کہ خاکہ لکھنے سے پہلے ہوم ورک کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جو دوست سنجیدگی سے خاکہ نگاری میں دل چسپی رکھتے ہیں وہ اس ابتدائی حصے کو اپنے پاس سیف کرلیں کیوں کہ یہ خاکہ نگاری کا تعارف نہیں اس کی اساس تھا۔ اصل میں خاکہ نگاری کے بارے میں کوئی مستند اور متفقہ تعریف ہے ہی نہیں جو میں خاکہ نگاری کے تعارف کے لیے آپ کے سامنے پیش کرسکوں۔
چلیے اب ہم فرض کیے لیتے ہیں کہ ہم نے خاکہ کھیچنے کے لیے ایک ممدوح کا انتخاب کرکے اس پر اپنی اہلیت کے مطابق ہوم ورک کرلیا ہے اور اب ہم خاکہ لکھنے کے لیے تیار ہیں لیکن ٹھہریئے ابھی تو ہم نے ان تیکنیکی تقاضوں کو سمجھنا ہے جو خاکہ لکھنے کے لیے ازبس ضروری ہوتے ہیں۔ ان کو پورا کیے بغیر آپ شاید کوئی تحریر لکھ تو لیں لیکن جو لکھا جائے گا وہ زیادہ سے زیادہ شخصی مضمون ہوگا ،اسے خاکہ کبھی نہیں کہا جاسکے گا نہ ہی اس حیثیت سے اسے قبول کیا جائے گا۔ تو آیئے دیکھتے ہیں وہ کیا تقاضے ہیں جن کا خاکہ لکھنے سے قبل ہمیں خیال رکھنا ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اپنے ممدوح یا سبجیکٹ کے انتخاب میں بہت احتیاط سے کام لینا ہے کیوں کہ جسے ہم خاکہ لکھنے کے لیے منتخب کریں اس میں کو ئی ایسی خصوصیت ضرور ہونی چاہیئے جو اس کی شخصیت کو زیر کلام لانے کے قابل بناتی ہوتی ہو ۔ یہیں سے خاکہ نگار کی اپنی اہلیت کا امتحان شروع ہو جاتا ہے ، کیوں کہ اگر وہ پھسپسی شخصیت کا انتخاب کرے گا تو وہ خاکہ لکھنے پر چاہے جتنی بھی قدرت رکھتا ہو ایک عمدہ خاکہ تخلیق نہیں کرسکے گا۔اپنے ممدوح کے انتخاب کے بعد اب خاکے کے عنوان کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ۔خاکہ میں اس کے عنوان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ عنوان کو منفرد اور ایسا ہونا چاہیئے جس میں آپ کے ممدوح کی پوری شخصیت کا احاطہ کیا گیا ہو۔ اس بات کو میں یہاں ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ میں نے اپنے ایک خاکے کا عنوان شعلہ پر صافہ رکھا۔یہ ایک ایسی شخصیت کا خاکہ ہے جو اپنی جوانی میں نہایت مشتعل مزاج انسان تھا لیکن ادھیڑ عمری میں جب اس پر دین کا غلبہ بڑھا تو وہ روئی کے گالے کی طرح نرم ہوتا چلا گیا اور دین میں اعلی مدارج پر پہنچا۔ اسی طرح منیر نیازی کے خاکے میں اس کاعنوان اوکھا منڈا رکھا اس کی وجہ اس کی شخصیت سے ہردم ایک نوجوان جلوہ دکھاتا نظر آتا تھا اور اسے واقعتا زندگی کے کسی مرحلے پر یہ یقین آیا ہی نہیں کہ اس کی جوانی رخصت ہوچکی ہے اور منیر نیازی سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ بہت مشکل انسان تھا۔ یہ مثالیں میں نے اس لیے دیں کہ آپ سمجھ سکیں کہ عنوان منتخب کرتے ہوئے کن نزاکتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ میں نے گفتگو کے پہلے مرحلے میں عرض کیا تھا کہ خاکہ نگار کا مشاہدہ بے حد تیز ہونا چاہیئے لیکن جب وہ اپنے ممدوح کا جائزہ لے رہا ہو تو خاکہ نگار کے لیے یہ ظاہر کرنا ضروری ہے جیسے وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو وہ ذہنی طور پر وہاں نہیں ہے ورنہ وہ چوکنا ہوجائے گا اور خاکہ نگار بہت سی باتیں جاننے سے محروم رہ جائے گا۔مجھ سے اکثر دوست اس بات پر نالاں ہوتے ہیں کہ میں محفل میں ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں ہوتا۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں آپ کو کیا سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔ اس سے پہلے کے حصے میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر اچھا نثار خاکہ بھی لکھ سکتا ہو۔ یہ بات میں نے اس بنیاد پر عرض کی تھی کہ دیگر اصناف کے مقابلے میں خاکے کے مطالبات زیادہ کڑے ہیں مثلا اسے لکھنے کہ لیے ایک علیحدہ طرز اظہار کی ضرورت ہوتی ہے اور بیان کا رنگ ہر ممدوح کے ساتھ بدلتا رہتا ہے بیان کو ممدوح کی شخصیت سے میل کھانا چاہیئے، اس بات کو سمجھانے کے لیے پھر مجھے ایک مثال دینے کی اجازت دیں۔ منیر نیازی کا خاکہ لکھتے ہوئے میں نے داستان میں لکھی جانے والی زبان استعمال کی کیوں کہ وہ اصل زندگی میں بھی کسی داستان کا کردار نظر آتا تھا لیکن جب میں نے انور شعور کا خاکہ لکھا تو اس کی زبان کا ڈھنگ بالکل اس کی شخصیت کے مطابق رکھا ۔ اسی طرح سراج منیر اور نصیر ترابی کے خاکوں میں قاری مختلف زبان کے تجربوں سے گزرتا ہے۔ مجھے معاف فرمائیں کہ میں بار بار اپنے خاکوں کا تذکرہ کررہا ہوں اس کا مقصد خود پسندی نہیں بلکہ میرا خاکہ نگاری کا تمام تجربہ میں نے تیس سال کے دوران اپنے خاکوں ہی سے سمجھا اور کشید کیا ہے۔ خاکے میں اس کا پہلا جملہ ایسا ہونا چاہیئے جو قاری کو اپنے آپ میں ضم کرلے ۔ظاہر ہے ابتدا میں ایسا مشکل ہوتا ہے لیکن مشق اور محنت انسان میں ایسا بے ساختہ اور کارگر جملہ لکھنے کی صلاحیت پیدا کردیتی ہے ۔ اگر آپ سوچ سوچ کے جملے لکھیں گے تو ان کی نہ صرف بے ساختگی جاتی رہے گی بلکہ ان میں تاثیر بھی باقی نہیں رہے گی۔خاکے میں ریڈایبلٹی کی خصوصیت کا ہونا اس کی سب سے بڑی خصو صیت ہوتی ہے۔ اپنے خاکے میں آپ مکالمے بھی لکھ سکتے ہیں لیکن یہ مکالمے وہ ہوں جو واقعتا بولے گئے ہوں ہاں آپ انہیں تراش خراش لیں لیکن ان کا جوہر ہر صورت میں باقی رہنا چاہیئے اسی طرح آپ اپنے خاکے میں کہانی کا تڑکا بھی لگا سکتے ہیں لیکن اسے محض تخیل سے کام لے کر نہ بنا گیا ہو بلکہ وہ کہانی آپ کے ممدوح سے سچا تعلق رکھتی ہو۔ خاکہ لکھتے ہوئے اپنے سبجیکٹ یاممدوح سے اپنے تعلق کی نوعیت کو بھلا دینا چاہیئے ورنہ آپ خاکے سے انصاف نہیں کرسکیں گے ، ہم واقف ہیں کہ انسان خیر اور شر کا مجموعہ ہے تو جب آپ کسی کا خاکہ لکھیں تو یاد رکھیں کہ آپ نے اپنے ممدوح کی شخصیت کے ہر رنگ کو دل آویز انداز میں تصویر کرنا ہو۔ خاکہ لکھنے کہ لیے انسان کا دلیر ہونا بہت ضروری ہے کیوں کہ دنیا کا کوئی انسان اپنی اصل صورت دیکھنا یا دکھانا نہیں چاہتا اور جب آپ ایسا کریں گے جو مکمل سچ ہوگا لیکن آپ کے ممدوح کو وہ پسند نہیں آئے گا اس کی خواہش ہوگی کہ آپ کو اس کی شخصی خوبیوں کو ہی تذکرہ میں لانا چاہیئے تھا اور خامیوں کو زیر گفتگو لاکر آپ نے اس کے ساتھ ذیادتی کی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خاکہ لکھنے کے نتیجے میں آپ کے اپنے ممدوح سے تعلقات متاثر ہوجائیں تو جناب یہ اچھی خاکہ نگاری کی بہت معمولی قیمت ہے ورنہ میں آپ سے عرض کروں کہ میں تین سال سے ایک خاکے کے نتیجے میں ہتک عزت کے مقدمے میں تاریخیں بھگت رہا ہوں۔ ہمیں ہر اچھے اور معیاری کام کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور ایک حقیقی مصنف کو خوشی سے اس کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ یہاں خاکہ نگاری کے بنیادی تقاضے تقریباً مکمل ہوگئے ہیں لیکن اگر کچھ رہ گیا ہے تو اس پر آئندہ گفتگو میں بات ہوگی اسی کے ساتھ میں خاکے کے بارے میں مشاہیر کی آرا بھی یہاں نقل کروں گا تاکہ آپ کو خاکہ نگاری کے

تقاضوں کو سمجھنے میں مذید مدد مل سکے۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ جب آپ کسی کا خاکہ لکھتےہیں تو وہ تنہا نہیں ہوتا اس کے اردگرد اور بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو صرف اس کے یا آپ دونوں کے مشترکہ احباب ہوسکتے ہیں تو جب آ پ کو اپنے ممدوح کے ساتھ ساتھ ان افراد کی بھی ایک مختصر تصویر کھینچنی ہوتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کا ممدوح کس ذوق اور مزاج کا فرد ہے۔ اگر کسی بات کو سمجھنے میں آپ الجھن محسوس کریں تو بہت شوق سے مجھ سے سوال کیجیے۔ شکریہ

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 6836
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
دوستو میں نے وعدہ کیا تھا کہ جلد اپنا نیا خاکہ یہاں شیئر کروں گا لیجئے نسیم سید کا خاکہ حاضر ہے۔
خزاں کا پھول --- نسیم سید
ممتاز رفیق

عورت ایک ایسے معمے کی طرح ہے جسے حل کرنے میں انسان کی سانس اکھڑ جاتی ہے اور آج میں ایسی ہی عورت کے تعاقب میں ہوں اس سے میرا رابطہ برسوں پر محیط سہی لیکن آج جب اسے سیاہ سپید میں لانے بیٹھا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں اسے بس اتنا ہی جان سکا جس قدر وہ چاہتی تھی مگر اب ایسا بھی نہیں کہ میں اس کے حوالے سےسرے سے ہی بے خبر ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں ان کے بچپن سے کچھ آگاہی حاصل کی جائے جو ان کے لکھے ایک مضمون سے ہمیں حاصل ہوئی ۔اپنے حوالے سے ایک مضمون میں کہتی ہیں۔
"یہ ایک چھوٹا سا تین منزلہ خوبصورت گھر تھا خیرپور سندھ کے محلے لقماں میں وہاں میرے والدین بھی رلتے رلاتے آگئے۔میرے والد صاحب سید تھے۔آگے چل کر بتاتی ہیں اس گھر کے دالان میں ہی ان کی والدہ کی لحد بھی ہے۔یہاں ہم پانچ بہن بھائیوں کا بچپن بھی دفن ہے۔ " انہوں نے یہ تلخ جملہ اس لیے لکھا کہ اس گھر میں شیر کی نظر رکھنے والے ان کے والد موجود تھے اور اس گھر میں انہوں نے روایتی جکڑ بندیوں میں زندگی بسر کی لیکن اس ماحول نے ان میں ایک باغی لڑکی کو وجود دیا۔ان کی والدہ نے انہیں نصیحت کی تھی جو انہوں نے پلو میں باندہ لی ۔والدہ نے کہا تھا۔" دکھ درد اور اندوہ کی کڑوی گولیوں کو چبانا نہیں چاہیئے بلکہ ایک گھونٹ میں نگل لینا چاہیئے۔ ان کڑوی گولیوں کے بیج سے میں اندر ہی اندر پھوٹتی رہی یعنی گل و گلزار ہوتی گئی۔ ان کسیلی گولیوں نے میرے اندر تریاق کا سا اثر دکھایا۔میری بہن جتنی ڈرپوک تھی میں اتنی ہی بے باک تھی ۔"یہی وجہ ہے کہ ان میں یہ ہمت پیدا ہوئی کہ جب وہ ساتویں کلاس میں تھیںتو اسکول میں پردے کے خلاف تقریر کرسکیں، اس مقابلے میں انہیں پہلے انعام سے نوازا گیا، انعام میں ملنے والا کپ گو بہت چھوٹا سا تھا لیکن اس نے انہیں جرات رندانہ سے سرفراز کردیا۔اپنے اس مضمون میں وہ کہتی ہیں۔
"میرے اندر سوالوں کا ہمیشہ انبار رہا ۔ اور یہ سوالا ت اکثر ان کے قوانین سے ٹکر ا تے ، جب ٹکر ا تے تو سخت جھا ڑ جھپا ڑ ادھیڑ پچھا ڑ ہو تی میری مگر یہ سب کچھ مجھے اوپر سے خا موش اور اندر سے پر شور بنا تا رہا ۔ غرض سوال کر نے کی عا دت کے سبب اسکو ل اور گھر دونوں جگہ ، خو ب خو ب صلواتیں پڑیں ۔سزا بھگتی ٹھکا ئی ہو ئی ۔یہ سب کچھ اب بھی ہو تا ہے کسی اور اندا ز سے مگر اپنی نظموں میں جو جی کرتا ہے بکتی ہوں ۔ لہذا " بدن کی اپنی شریعتیں ہیں " جیسی نظمیں لکھیں تو کئی بڑے شا عروں نے اشا روں اشا روں میں اور کھل کے سمجھا یا کہ عو رت کو کیسی شا عری سے پر ہیز کرنا چا ہئے اور کیسی شا عری کر نی چا ہئے ۔ اس جملے کو معتر ضہ سمجھیں۔ تو با ت تھی نو عمری کے زما نے کی اپنے چھا نے پھٹکے جا نے کی ،کو ٹے پیسے جا نے کی ۔ سا تو یں کلا س میں دو اہم واقعا ت ہو ئے ایک پر دہ کے خلا ف میری جیت اور دوسرا دلچسپ وا قعہ یہ ہوا کہ امتحان میں جملے بنا نے کو آ تے تھے اس زمانے میں ۔ جیسے چو ری اور سینہ زوری ، بکرے کی ماں کب تک خیر منا ئے گی وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے سب کو شعر بنا ڈا لا بجا ئے جملے کے ۔ ایک فضول سا شعرکیو نکہ اس پر بہت مار پڑی تھی اس لئے شا ید اب بھی یا دہے ۔ ٹیٹوا دبا نا کا جملہ بنا نا تھا ۔ میں نے لکھامیں سر دبا نا چا ہتا تھا آ پ کا حضور بھو لے سے میں نے ٹیٹوے کو ہی دبا دیا میری اردو کی استا د کو بہت غصہ آ یا ۔ اس نے میرا امتحان کا پیپر میرے منہ پر ما را ۔ اور خوب ڈانٹا پھر ایک گھنٹہ کے لئے کلا س کے کو نے میں کھڑا کردیا ۔اس کو نے میں کھڑے ہو کے میں نے اس ایک گھنٹہ کو بہت سر شا ر ی میں گزارا ۔اس دن اس کو نے میں کھڑے کھڑے میں نے اپنے لئے سزا میں سے جزا کا فا رمولا دریا فت کر لیا ۔ والد نے حسب دستور چا لیس دن کے اندر شا دی کر لی تھی ۔ دوسری ماں بھی با کل ویسی تھیں جیسے انہیں ہو نا چا ہئے تھا ۔ بڑی بہن با رہ سال کی ہو ئی تو اس کی پینتا لیس سا ل کے مرد سے شا دی کر دی گئی ۔ تو انکی شا دی شدہ زندگی ویسی تھی جیسی اسے ہو نا چا ہئے تھا ۔ بڑے بھا ئی پا ئیلٹ کی ٹرینگ کے لئے انگلینڈ بھیج دئے گئے ۔والد نے ہمیں دوسری والدہ کے سا تھ بہت انصا ف کا ا حسا س دیا ۔ اپنے طور پر محبت بھی دی ۔تحفظ بھی اور تعلیم کے لئے آ گے بڑھتے جا نے کی اپنی بسا ط بھر پو ری مدد بھی ۔مگر انکے اور میرے بیچ میری ماں کی لحد کا فا صلہ تھا اور یہ فا صلہ لق و دق تھا شا ید جو میں چا ہتے ہو ئے بھی ختم نہیں کر پا ئی ۔" اب آئیں ان کی کالج کی زندگی سے تعارف حاصل کرتے ہیں۔وہ اپنے مضمون میں لکھتی ہیں۔
" میں اپنے کا لج کے میگزین " فضا " کی ایڈیٹر تھی ، یو نین کی صدر تھی ،ڈرامہ سو سا ئٹی کی صدر تھی ۔ ڈیبیٹ ، مشا عرے سب میں شا مل ۔ غرض اس مصروفیت میں عجب فر صت تھی عجب آرام تھا عجب خو شیاں تھیں حیدر آ با د ویمن کا لج میں مشا عرہ تھا ۔ پو رے پا کستان سے شا عرات اس مشا عرے میں شر کت کر رہی تھیں ۔ حمایت علی شا عر اور (شاید ) عبیداللہ علیم ججز میں تھے ۔اس مشا عرے میں جب میرے نام کا اعلا ن ہوا پہلے انعام کے لئے تو میں بہت دیر تک سمجھتی رہی کہ غلطی سے میرے نام کا اعلا ن ہوا ہے ۔ ( حما یت علی شا عر آ ج بھی میرے اس ہونق پن پر ہنستے ہیں ) یو نیورسٹی پہنچتے تک شا عری سے میری اتنی گا ڑھی چھنے لگی تھی کہ جب تنقیدی نشستیں ہو تیں تو وہ لڑ کے جو خا ص کر ہو ٹنگ کر نے ہی آتے تھے مجھے اکثر بخش دیتے تھے ۔ ایک نطم لکھی تھی میں نے "جمیلہ بو پا شا " ہمارے ہیڈ آ ف ڈیپا رٹمنٹ اور تما م پر وفیسر ڈیپا رٹمنٹ کے اسٹیج پر موجود ہو تے تھے ۔اس دن فر مان صا حب نے جو کہا وہ جملہ میرے لئے بہت بڑی سر شا ری تھا " نسیم !! تمہا ری شاعری کا مستقبل بہت تا بنا ک ہے ۔"
آپ نے دیکھا نسیم سید نے بچپن ہی میں کیسے سزا سے جزا کا طریقہ کشید کیا پھر کیا عجب اگر اب وہ
چاہے تو آسمان سے ستارے بھی نوچ کر لا سکتی ہے،اگر انسان کو گھیر گھار کر ایک ایسی جنگ کی اُوور دھکیل دیا جائے جو اس کی بقا یا فنا کا مسئلہ بن جائے تو اس میں بلا کی قوت در آتی ہے۔ سُو ہماری سیدی کو جب ایسی صورت درپیش ہوئی تو وہ اس بد صورت دنیا کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی۔ اس کے میاں ایک گوری کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اور اب تن تنہا اسے اپنی اور اپنے پھولوں کی حفاظت کرنی تھی۔ آدمی ایسی جنگ درشت ہوئے بغیر لڑ ہی نہیں سکتا لیکن نسیم نے عجب طور اپنایا اور ایک مسکراہٹ ہونٹوں پر سنگھار کر کے میدان میں اتر آئی۔ اس میں ایک ایسی مخفی دل کشی ہے جسے دیکھنا ہر چلتی پھرتی آنکھ کے بس کی بات نہیں، اس کی نا وری نے اسے کچھ خوش گمانیوں میں ضرور مبتلا کر دیا ہے لیکن دوستوں کے لیے وہ دل کشادہ رکھتی ہے،شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سیدی کون ہے جس کے تعلق سے میں لفظوں کے ڈھیر لگائے جارہا ہوں اور ممکن ہے آپ یہ بھی جاننا چاہیں کہ وہ خوش گمانیاں کیا ہیں؟ تو عزیزوں اس نازک مزاج کے دل میں اتنی بھی وسعت نہین کہ وہ کسی حرف ناگوار کو سہار سکے، ہاں یہ سن لیں کہ سیدی ہماری نسیم سید کا لقب ہے جو ہم دوستوں نے بہت پیار سے اسے انعام کر رکھا ہے۔ اصل میں انسان حالت جنگ میں ہو تو اس سے کچھ بھی سرزد ہو سکتا ہے، لفظ سے تعلق جوڑ کر اس نے خود کو پارس کر لیا ہے اور اب دنیا کو خاطر میں لائے بغیر بے خوف و خطر جئے جاتی ہے۔ یہ وہ بلا خیز عورت ہے جس کی کوکھ پر چار صحیفے اترے، اور جو کسی در پر ٹھیکری کی طرح پڑی تھی لیکن اٹھی تو ایسے کہ پھر جیسے کوہسار ہوئی، وہ اتنی متحرک اور مصروف رہتی ہے کہ اپنا آپ آنکھ میں ٹکنے ہی نہیں دیتی، یہ سوال اگر کسی ذہن میں جگہ پائے تو عجب نہیں کہ اسے کیا آفت پڑی ہے کہ خود کو پھرکنی بنائے رکھتی ہے تو صاحبو انسان دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے خا حوصلہ چاہے رکھتا ہو پھر بھی وہ اپنی ذات میںبپا معرکے کا کیا کرے؟ انسان کتنا ہی قوی سہی مگر اپنا مقابلہ کون کر سکا ہے۔ بس وہ مسکرائے جاتی ہے اور کاغز پر سیاہ موتی رولے جاتی ہے۔
آپ حیران ہوں گے کہ مسکراہٹ ہتھیار کیسے بن سکتی ہے؟ تو اصل میں جس مسکراہٹ کا بیان یہاں آیا اس میں ایک بھید ہے، اپنی اصل میں یہ ایک نوحہ ہے جو ہماری ممدوحہ تواتر سے اس بے مروت دنیا کے لیے پڑتی رہتی ہے، اس نے جانے کس جتن سے یہ کمال حاصل کیا کہ آنسوں سے مسکراہٹ کشید کر سکے۔شاید اپنا آپ فراموش کرنے کے لیے اس سے بہتر طور کچھ اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ دیکھئے ایک اور سوال نے سر اٹھایا کہ ہونٹوں پر مسکراہٹ اور اپنا آپ بھلائے رکھنے کا جتن، تو جناب یہ تو پہلے ہی بیان میں آچکا کہ یہ عورت ایک مشکل معمہ ہے۔ آپ اس بھید کو تفصیل کرنے پر اصرار نہ کریں کہ یہ ایک دل فگار قصہ ہے میں حیران ہوتا ہوں کہ مرد کی سنگ دلی کا کوئی انت بھی ہے ؟ شاید نہیں ورنہ کون کم نصیب ہو گا جو سیدی ایسی شان دار عورت سے نظر پھیر کر گوری چمڑی پر ریجھ جائے اور اس عورت کو دیکھئےکہ جب ایک بار میاں جی اغوا کر لیے گئے تو اسے کسی پہلوآرام نہ آتا تھا وہ ہر طرف بولائی بولائی پھرتی تھی اور اس وفا داری کا انعام؟ موصوف کو رہائی نصیب ہوئی تو وہ رسی تڑا کے یہ جا وہ جا۔ کیا جانے یہ عورت کتنے آنسووں سے ایک مسکراہٹ کشید کرتی ہے۔ اب آپ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ نسیم سید سے ان سب باتوں کا کیا ناتہ،وہ تو کینڈا کے متمول شہر ٹورنٹومیں اقامت رکھتی ہے جہاں عورت کے حقوق کا بہت ڈنکا ہے۔ ارے صاحب آپ بھی بہت بھولے ہیں آدمی کا دل ہی اٹھ جائے تو وہ خاک اپنے حقوق کی دہائی دے۔صاحب زندگی انسان کے قدموں سے زمین کھینچ لے اور وہ شخص درد مند دل بھی رکھتا ہو تو سوچئے اس پر کیا قیامت نہ گزرتی ہو گی؟
نسیم سید کو دنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے ذاتی دکھ میں منتقل کر لینے پر قدرت حاصل ہے۔کہیں کال پڑ جائے تو وہاں کے بچوں کے آنسو اُن کی آنکھوں میں اتر آتے ہیں، بلوچستان میں زائرین کی بس پر فائرنگ ہو جائے اور ان میں سے کچھ شہید ہو جائیں تو وہ کئی دن ما تم میں رہتی ہیں ، اگر اسلام آباد میں کوئی لاپتہ ہو جائے تو انہیں اس دم تک چین نہیں پڑتا جب تک اس کی خیر خبر نہ مل جائے۔ ایسی گداز قلبی اور اس پر سوا ان کا ذکی الحس ہونا، اب زندگی ایک مسلسل غیر ہمواری میں نہ گزرے تو کیا ہو۔ میں نے اسی لیے ان کی مسکراہٹ کو آنسووں سے کشید کی ہوئی قرار دیا مگر مجال ہے کبھی کوئی ناگواری بیان میں آئے، کچھ لوگ اپنے عذاب اپنی ذات پر جھیلنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن اس کے لیے بڑا ظرف چاہیئے۔آپ سوال کر سکتے ہیں اگر وہ ایسی ہی گہری ہیں تو میں یہ سب کیسے بیان میں لے آیا تو جناب میں عرض کر آیا ہوں کہ میں انہیں برسوں سے جانتا ہوں،ان کی تخلیقات پڑھ رہا ہوں ان کی باتیں سن رہا ہوں۔ ایک ملاقات تھی جو نہیں ہوئی تھی سُو وہ بھی ہو گئی۔ انسان کے جاننے کے لیے آنکھ چاہیئے پھر وہ ریشمی تھان کی طرح کھلتا چلا جاتا ہے۔ اس دن کراچی کے ادبی میلے میںمشاعرہ انجام کو پہنچا تو میں لپک کر سامنے جا کھڑا ہوا، انہوں نے چند پل اجنبی آنکھوں سے مجھے دیکھا پھر اچانک ان کا روشن چہرہ دمک اٹھا اور گہری مانوسیت آنکھوں میں اتر آئی، دیرینہ دوست سے اچانک ملاقات پر وہ شاداں تھیں اور میری خوشی کا بھی ٹھکانہ نا تھا، انہوں نے ہاتھ بڑھایا جسے میں نے احترام اور محبت سے تھام لیا ، مجھے لگا ان کے ذہن میں میرے حوالے سے کوئی فلم چل رہی ہو۔ہم نے دو بار ہاتھ ملایا اور دوسری بار مجھے دست بوسی کا اعزاز بھی حاصل ہوا پھر وہ لڑکیوں کی طرف بڑھ گئیں اور میں بھی ادھر اُدھر ہوگیا، یہ بظاہر چند لمحوں کی ملاقات تھی لیکن مجھے لگا جیسے برسوں پر محیط ہے۔ سچ تو یہ ہے میں گوشہ گیر نسیم سے ملاقات کی للک میں ہی یہاں آیا تھا، سوچیئے میں اس سے ملاقات کرکے کس انبساط اور سرشاری میں رہا ہوں گا۔نسیم کوئی سحر جانتی ہے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اس سے ملاقات بھی کرے اور اس کا گرویدہ بھی نہ ہو اور نسیم کو تو ہر دم ایک ہلڑ چاہیئے، نہیں اس لفظ ہلڑ سے بد راہ ہونے کی ضرورت نہیں یہ بھی ایک مثبت سرگرمی ہی ہوتی ہے ظاہر ہے جب شاعر، ادیب کہیں تو وہاں اشعار کی فصل ہی نہیں لہلہاتی غیبت کے پھول بھی ہیں۔ ٹورنٹو کی تو خیر میں کیا جانو لیکن ہمارے شہر میں تو یہی ہوتا ہے اور زمین چاہے جو بھی ہو، جسم خواہ کسی رنگت سے مزین ہو، انسان کی سرشت کم و بیش ہر جا ایک سی ہی ہوتی ہے۔
نسیم کے پاس وقت کہاں کہ وہ ان خرابات میں پڑے، وہ تو مسکائے جاتی ہے اور کاغذ پر سیاہ موتی کاڑھے جاتی ہے۔اس نے برصغیرمیں ہند و پاک تو خیر چھان ہی رکھے ہیں لیکن یورپ و امریکا کے کتنے ہی ممالک نے اس کے قدموں کی خاک چاٹ رکھی ہے۔ کہتے ہیں سفر وسیلہ ء ظفر ہے اور ہماری نسیم کی ظفر مندی کا کیا کہنا۔ وہ تربیت یافتہ ذوق کی مالک تو ہے ہی اس رنگ بدلتی مٹی کی سیاحت نے اسے وذن کی کشادگی بھی انعام کر دی ہے، ہمیں اس کی تخلیقات میں پس لفظ ایک گہری بضیرت کا تجربہ حا صل ہوتا ہے۔وہ یقینا کبھی دیکھنے دکھانے کے لائق رہی ہوگی مگر انسان خواہ کتنا ہی حوصلہ مند کیوں نہ ہو، وقت کے روبرو اس کی ایک نہیں چلتی، ظالم وقت اپنا کیا کر کے رہتا ہے اگر کچھ اور نہیں تو بالوں کی چمک اور سیاہی چوس کر وہاں چاندی بکھیر دیتا ہے اور یہی نہیں وہ چہرے پر اپنے نقش ثبت کرنا بھی فراموش نہیں کرتا لیکن وقت بھی ہماری ممدوحہ کی مسکراہٹ کا کچھ نہ بگاڑ سکااور نسیم کی تو تمام جاذبیت اس کی مسکان میں اپنا وجو دکھاتی ہے رہے بال وغیرہ تو اس جدید دور میں سیاہی اور سپیدی کیا مسئلہ ہے۔ میرا خیال ہے تحریر میں اب وہ موڑ آپہنچا ہے جب مجھے اپنی ممدوحہ کی ملاقات آپ سے کرا دینی چاہیئے۔
گھنے سیاہ بال اور کشادہ ماتھے کے نیچے سنواری ہوئی بھنووں کے تلے درمیانی آنکھیں جو ہر دم کسی سوچ میں گم رہتی ہیں اور آنکھوں کے تلے حلقوں کا معدوم تاثر اور آنکھوں سے جڑی ناز ک نمایاں متناسب ناک اوربھرے بھرے گال جن پر مسکرائت کے دوران جیسے جھریاں سی پڑ جاتیں ہیں اور تراشیدہ ہونٹوں کے عقب میں دمکتی بتیسی اور ٹھوڑی، جس سے ان کا ارادے کا اٹل ہونا ثابت ہے اور اگر لانبی نہیں تو اسے کوتاہ بھی نہیں کہا جاسکتا اور کاندھے بھرے بھرے اور توانا ہاتھ پیر اور قامت درمیانہ اور رنگت جیسے چنبیلے کا لہلہاتا پھول لیکن ان کی شخصیت میں مجھے فربہی دستک دیتی سنائی دیتی ہے۔
ان کی ذات سے چھلکتا وقار اس علم و آگہی کی دین ہے جس سے ان کا سینہ دھکتا ہے اور انسان میں یہ بڑا پن جگہ بنا ہی نہیں سکتا اگر اس نے دنیا کو چھو کر محسوس نہ کیا ہو اور جس دکھ نے انہیں جلا کر خاک کرنے کے جتن کیے اس کا الٹا اثر ہوا، اس سے ان کی شخصیت میں ایک خیرگی سی پیدا ہو گئی۔ا ب ان کے کام کا چار دانگ ڈنکا پٹ رہا ہے۔
نسیم سید برسوں سے میرے رابطے میں ہیں لیکن میں نے کبھی انہیں کسی پر کوئی بہتا ن باندھتے نہیں سنا، وہ ہر دم سب کی خیر خواہی کی تمنائی رہتی ہیں۔نسیم ایک بڑی تخلیق کار ہیں اور جب انسان اس منصب پر فائز ہو جائے تو اس میں ایک نوع کی نازک مزاجی در آتی ہے ،وہ چاہتا ہے کہ اس کے روبرو وہی کہا جائے جو وہ سننا چاہتا ہے اور وہی لکھا جائے جو اس کے شایان شان ہو ، ہماری نسیم بھی اس بدعت سے مبرا نہیں لیکن اس کے خیر خواہوں کا دل چاہتا ہے کہ وہ کم قامتوں کی بات پر کان ہی نہ ھریں، یہ بد اطوار ایسی باتیں کرتے ہی اسی لیے ہیں کے ایک جینوئن قلم کار کے اشتعال کو تماشے میں تبدیل کر سکیں۔ یہ بھی نسیم کی خوش نصیبی تھی کہ اس نے لفظ اختیار کیا اور پھر اس پر شاعری کی دیوی مہربان نہیں قربان ہوتی نظر آئی ، انہوں نے نظم غزل دونوں پر قلم تیز کیا مگر نظم ان کی شناخت ٹھہری اور نظم بھی ایسی جو کسی کو خال خال ہی نصیب ہوتی ہے لیکن جسےلفظ کو اس کے ممکنہ معنوی امکانات تک برتنے پر دسترس حاصل ہو وہ کیا عجب اگر جو بھی لکھے اسے جواہر پارے میں بدل دے۔ اور یہی نہیں انہوں نے ترجمے پر بھی کام کیا اور اپنی جدت طبع کے مطابق شمالی امریکا کے باشندوں کی بصیرت افروز نظمیں ترجمہ کیں ،جن میں ان برف پوشوں میں دھکتا الاو اور ذہنی بالیدگی پوری شان سے جلوہ گر ہے، اس انتخاب سے خود ہماری ممدوحہ کے تربییت یا فتہ ذوق کی نشاندہی ہوتی ہےاور ترجمہ سے نمٹ کر نسیم نے نثر پر توجہ دی اور ان کی کتاب " سب تن کھائیو" مارکیٹ ہوئی،میں نہیں کہہ سکتا کہ نثر میں نسیم کا رنگ کیا ہے کہ مجھے اس کتاب کے لائق خیال نہیں کیا گیا ۔ لیکن ایک حساس اور خوش طبع قلم کار جو لکھتا ہے اس میں اس کا پرتو ضرور اپنی جھلک دکھاتا ہے۔
ٹورنٹو میں نسیم نے ہوٹل مینجمنٹ کا کورس کیا اور اب کسب معاش کے لیے کسی ہوٹل کے انتظامی عہدے پر فائز ہے لیکن اس کی دل پسند سرگرمی ادب اور ادیبوں سے رابطے اور محفلیں سجانا اور شامیں منانا ہے۔ کہتے ہیں کینڈا کی خزاں وہاں کی بہار سے زیادہ حسین ہوتی ہے اور نسیم اس خزاں کا پھول ہے۔

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 6836
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
حسب وعدہ سلیم احمد کا خاکہ
قطب
شمالی ۔۔۔ سلیم احمد
ممتاز رفیق

چاول کا معیار جانچتتے شخص میں ایسا کیا تھا جس نے میرے قدموں کو زنجیر کر
لیا تھا؟ـ پتھریاہواچہرہ اور جسم پر ملگجا لباس اور یہ سگریٹ پینے کا
کون سا ڈھنگ ہے، وہ نرالے انداز میں مٹھی میں سگریٹ دابے کسی خیال میں گم
گہرے گہرے کش لیے جاتا تھا۔ میں کچھ دیر وہاں ٹکا پھر سر جھٹک کر جوڑیا
بازار سے ریڈیو کی ُاور روانہ ہو گیا جہاں قمر جمیل کے مکالمے کا
ڈنکا پٹ رہا تھا۔ قمرجمیل کینٹین کی کسی میز پر آسن جمائے مار گفتار میں
مبتلا کسی فرانسیسی ادیب شاعر کے حق میں قصیدہ خواں ہوں گے۔ ریڈیو
میرا روزمرہ کا وظیفہ تھا جہاں کبھی کبھار بیس روپلی کا مشاعرہ بھی پڑھنے
کو مل جایا کرتا۔ کراچی میں ان دنوں اہل دانش کی ایک کہکشاں آباد تھی۔ جن
میں حسن عسکری، مجتبی حسین، عزیز حامد مدنی، کرار حسین ، مشفق خواجہ اور
بہت سے دیگر اہل علم اقامت رکھتے تھے ۔میں ان میں سے بہت کم سے شرف ملاقات
رکھتا تھا۔ شاعری میں اطہر نفیس کا غلغلہ تھا تو تنقید میں سلیم احمد کا
پھریرا لہرا رہا تھا۔ اطہر بھائی سے تو ایک آدھ بار کی ملا قات تھی لیکن
سلیم احمد کا میں نے بس نام ہی سنا تھا۔ یہ نام اتنے تواتر سے میری سعاعت
میں آتا کہ انسانو ں سے بے رغبتی کے باوصف دل چاہتا تھا کہ کبھی انہیں
دیکھوں، ان سے ملاقات کا اعزاز حاصل کروں، اگر وہ ریڈیو آتے بھی تھے تو کسے
پڑی تھی کہ وہ مجھے بتاتا کہ یہ سلیم احمد ہیں۔ ان دنوں میرا شمار ادب کے
چھوٹوں میں ہوا کرتا تھا یوں تو اب بھی میری یہی حیثیت بحال ہے لیکن میں
یہ کیا اپنی کتھا لے بیٹھ، میرے مقصود تو سلیم احمد تھے۔
سُو یوں ہوا کہ ایک دن میں معمول کے مطابق قمر بھائی کے کلام عالی شان کے
نشانے پر تھا کہ ناگاہ میری نظر چوک کر دروازے پر پڑی اور وہاں جا کر جیسے
اٹک گئی، یہ کیا ،جوڑیا بازار کے پتھر چہرے والے کا یہاں کیا کام؟ میرے ذہن
میں سوال کچوکے مار رہے تھے اور نظریں نووارد پر جمی ہوئی تھیں، وہ
چھوٹھےچھوٹے قدم اٹھاتا ایک میز پر آبیٹھا میں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی
لیکن کسی آنکھ میں بھی اس انسان کے لیے اجنبیت کی رمق تک نہیں تھی۔ کون ہے
یہ؟ اس سوال کی گونج مجھے ہلکان کیے دے رہی تھی۔ میں نے برابر میں بیٹھے
شوکت عابد سے پوچھا" یہ سامنے کون صاحب بیٹھے ہیں؟ اس نے نہایت تعجب سے
مجھے دیکھا، اس کی آنکھوں میں میرے لیے ملامت کے رنگ تھے۔ " یار سلیم
بھائی۔" میں نےناسمجھی سے کہا " کون سلیم بھائی؟" اُس نے تڑخ کر جواب دیا"
سلیم احمد" اس جواب پر میں ہکا بکا رہ گیا۔ یہ وہی تنقید اور شاعری والے
سلیم احمد ہیں جنہیں حس
عسکری کے چہیتے شاگرد کا تعارف حاصل ہے۔ میرے ذہن میں لوگوں سے سنی باتیں
شور مچانے لگیں۔ مجھے سراج منیر یاد آیا ،جو انہیں شہر کا سب سے بڑا آدمی
قرار دیتا تھا اور احمد جاوید جن سے اس کا مرشد اور سالک کا سا رکھ رکھائو
تھا۔ یہ دونوں اس زمانے میں نوجوانوں کے سرخیل ہوا کرتے تھے لیکن سلیم
احمد کے سامنے اپنی ساری چوکڑی بھلا بیٹھتے ۔ میں نے سلیم احمد کو اپنی
نظروں کے حصار میں لے لیا، مگر یار یہ تو بہت ٹھس سے انسان دکھائی دیتے
ہیں۔ میرے اندر جملہ کلبلایا۔"تو کیا آدمی وہ نہیں ہوتا جیسا وہ نظر
آتاہے۔؟"میں ان سے واقف نا سہی لیکن ان کے کام کی شدبد رکھتا تھا اور ان کے
تخلیقی جوبن سے خاصا متاثرتھا۔ان کے کئی مضامین اورشعری مجموعہ اکائی میرے
مظالعے میں رہ چکا تھے۔ " اب ان تک رسائی کیسے ہو؟۔" ایک نئے سوال نے سر
ابھارا ابھی میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ دروازے سے ملائم چہرے والے اطہر نفیس
اندر داخل ہوتے دکھائی دیے، انہوں نے ہال پر طائرانہ سی نظر ڈالی اور سلیم
احمد کو دیکھ کر فدویانہ انداز میں قلانچیں بھرتے ان کی میز پر پہنچے،میری
نظر سلیم احمد پر گڑی ہوئی تھی، جن کے چہرے پر اپنی بڑائی کی آگاہی دمک
رہی تھی مجھے عجب لگا لیکن یہ شاید ان کا حق تھا۔انہوں نے خفیف سی مسکراہٹ
سے اطہر نفیس کا خیرمقدم کیا، میں نے سوچا جو شخص اطہر نفیس ایسے معروف
آدمی سے ایسی بے نیازی کا قرینہ رکھتا ہے اس کا اپنا مرتبہ کیا ہوگا؟۔ میرے
ذہن میں ایک بار پھر سراج منیر کا نام گونجا۔ " میاں ممتاز !اگر سلیم احمد
تک رسائی کی ٹھان لی ہے تو تمھیں سراج کے سائے میں تحلیل ہونا ہوگا۔ میں
نے نظر ٹکا کر سلیم احمدکا جائزہ لیا-
پیچھے کو پلٹےہوئے سیاہ چمک دار بال جن میں کہیں کہیں چاندی بھی اپنی بہار
دکھا رہی تھی اور کشادہ ماتھا جو ان کی ظفر مندی پر دلیل تھا اور راکھ کی
رنگت والی بجھی بجھی آنکھیں گویا وہ زندگی کی ہما ہمی سے دست بردار ہوچکے
اور آنکھوں سے جڑی قدرے پھولی ہوئی نوک دار ناک جس سے ان کا ضدی ہونا عیاں
تھا اور کسی قدر چھوٹے چھوٹے کان گویا موصوف کان کے کچے تھے اور گال بھرے
بھرے اور مضبوط ٹھوڑی جس سے باور آیا کہ ہمارے ممدوح ارادے کے اٹل ہیں اور
گردن سُو تھی ہی نہیں اور سینہ ٹھٹھرا ہوا اور مسلسل حرکت میں رہنے والی
توانا ٹانگیں اور ہاتھوں کی انگلیاں موٹی موٹی جیسی کم ہی کسی فن کار کی
ہوا کرتی ہیں اور ہونٹوں پر بھید بھری مسکراہٹ جس کے بھید آخر تک نہ کھل
سکے اور رنگت جیسے گندم کا دانہ تا دیر دھکتے کوئلوں کی آنچ پر رکھا رہا ہو
اور درمیانہ قد وقامت جیسے قدرت نے انہیں خلق کرتے ہوئے مٹی کے باب میں
کفایت شعاری سے کام لیا ہو، اس قدرے کم قامتی کا حساب یوں چکایا گیا کہ ان
کا سینہ علم و بصیرت کی آگ سے دھکا دیا گیا۔ اچھا تو آپ ہیں ہمارے ممدوح
لیکن جناب ایسی بھی کیا بے نیازی، اس حال قال میں کون باورکرے گا کہ آپ وہی
سلیم احمد ہیں جن کی تخلیقی اپچ نے یہاں سے وہاں تک اودھم مچا رکھا ہے،
پھر مجھے خیال گزرا ممکن ہے یہ کسی قسم کی آڑ ہو پہنچے ہوئے لوگ عامیوں سے
نہاں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا جانے کیا تھا ، پھرناگاہ مجھے وہ چاول
جانچتا ہوا شخص یاد آیا،انہیں یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر یہ کیسا بے
ڈھنگا سوال تھا ؟ کیا چاول کا معیار جانچا کوئی گیا گزرا کام ہے اور پھر
اگر وہ یہ نہ کریں تو کیا اپنے بچوں کا پیٹ لفظوں سے بھریں؟صاحب اس معاشرے
کی ترجیحات جدا ہیں ، آپ اہل علم ہیں تو ہوں گے پیٹ بھرنے کے لیے مشقت تو
آپ کو کرنی ہی ہوگی۔ اب تک میرے دل میں اپنے ممدوح سے قربت کی طلب زور پکڑ
چکی تھی مگر اس ظالم سراج منیر کو کہاں کھوجتا وہ پارہ صفت تو ابھی یہاں
اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ جا وہ جا۔ لیکن جب خواہش جنون میں ڈھل جائےتو
راستے خود سیدھے ہو جاتے ہیں۔
آج میں سراج کی ہمرہی میں مسکن عزیز کی جانب رواں دواں تھا۔ انچولی میں یہ
ایک درمیانے درجے کا گھر تھا، ہمیں بیٹھک تک رسائی کا عندیہ ملا،اس قدرے
کشادہ کمرے میںایک مسہری اور کئی کرسیاں پڑی تھیں جن پر کچھ اصحاب نشست
رکھتے تھے میں نے جانا کہ یہ کمرہ میرے ممدوح کی خواب گاہ اور بیٹھک بھی
ہے سامنے مسہری پر سلیم بھائی آلتی پالتی مارے ، پہلو میں گول تکیہ دبائے
بیٹھے تھے ۔ان کی مٹھی کے سرے پر حسب معمول انگارہ دھک رہا تھا،سراج کو
دیکھ کر جگمگا اٹھے اور سامنے بیٹھے ایک ڈھلتی عمر کے آدمی سے بولے " سید
صاحب اب لطف آئے گا میرا حجتی آگیا۔"سید صاحب مسکائے، مجھے انہوں نے جیسے
دیکھا ہی نہین تھا،مجھے نظرانداز کیا جانا شاق گزرا لیکن پھر خیال آیا، میں
ہوں بھی کون؟سلیم بھائی اپنے بھائی سے کہہ رہے تھے شمیم خاں چائے کے لیے
تو کہو پھر سراج سے پوچھا " مولانا شہر میں کیا معرکے ہیں؟" سراج اپنا خاکی
لفافہ ایک طرف کو دھرتے ہوئے گویا ہوا۔ " اطہر بھائی کی تازہ غزل کے چرچے
ہیں۔"وہ مسکرائے پھر بولے۔" اطہر خاں کے ساتھ عجب معاملہ ہے، وہ شعر پڑھتے
ہیں تو سواد کے کیا کہنےلیکن جب وہی اشعار کاغذ پر منتقل ہوتے ہیں تو ان کی
تاثیر جانےکہاں گم ہوجاتی ہے۔" سراج نے کچھ کہنے کے لیے مونہہ کھولا ہی
تھاکہ سید صاحب چہچہائے۔"سلیم خاں کسی کو تو رگیدنے سے باز رہا کرو، ادھر
اطہر نفیس ہیں کہ وصیت لکھوا رہے ہیں کہ لحد میں میرے ساتھ سلیم بھائی کا
مجموعہ کلام رکھ دینا ادھر تم۔۔۔" سلیم بھائی کھل کے ہنسے۔ " سید !میں تو
عسکری صاحب سے نہیں چوکتا، اطہر خان تو ابھی کچھ بننے کے مرحلے میں ہیں۔
سراج تڑخا" سلیم بھائی اطہر نفیس کو توجو بننا تھا وہ بن چکے۔" سلیم احمد
نے سراج کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا"مولانا ابھی
اطہر خاں میں ایک آنچ کی کسر ہے۔"سراج نے ہنکارہ بھرا۔"آپ نے ابھی عسکری
صاحب کے حوالے سے یہ کیا کہا۔۔سلیم بھائی نے بات بیچ میں سے اچک لی۔" اماں
وہ اچھے بھلے تنقید اور ترجمے میں خود کوکھپا رہے تھے جانے اچانک کیا سوجھی
کہ خاکہ نگاری شروع کردی، میں گیا تو خاکہ لکھے بیٹھے تھے، یار جو آدمی
کسی کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا وہ کیا خاک خاکہ لکھے گا،پھر اچانک مجھ
پر نظریں جما کر گویا ہوئے ۔" میاں آپ تو قمر جمیل کے ہم نشین ہیں پھر یہاں
کہاں؟ "میں نے دبی آواز میں جواب دیا "سلیم بھائی کیا وہاں بیٹھنے والا
یہاں نہیں بیٹھ سکتا۔" ایک طرف کو سمٹے سمٹائے جمال پانی پتی کی آواز چمکی"
سلیم خاں مخالف کیمپ سے ٹوٹ کر آنے والے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیئے۔"
سلیم بھائی بدبدائے " ہاں لیکن مجھے خاموش لوگ بھلے نہیں لگتے۔"سید صاحب
کہاں چوکتے" سلیم خاں یہ خاموشی نہیں شخصیت کا سحر ہے۔"سلیم بھائی سنی ان
سنی کر کے سراج سے مخاطب ہوئے۔" میاںکئی دن کے ناغے سے آئے اس دوران "مشرق"
کے کئی اشعار ہو گئے" سراج نے اشتیاق سے کہا تو سلیم بھائی دیر کیا ہے
"بسم اللہ" انہوں نے تکیےکےنیچے دبے کچھ اوراق نکالے ہی تھے کہ ایک پیاری سی
بچی چائے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوئی سلیم بھائی کی شفقت دیدنی تھی
انہوں نے بچی کا ماتھا چوما اور اس کےسر پر پیار سے چپت لگائی،چائے نمٹی ہی
تھی کہ جمال پانی پتی کی آواز سنائی دی۔" سلیم خاں کتنا انتظار کروائو
گے۔"سلیم احمد مسکائے "اماں تم تو سن چکے ہو۔" یہ کہہ کر انہوں نے خفیف سی
لکنت بھری آواز میں اشعار کی قرات شروع کی۔اب مجھ پراشعار کی پھوار برس رہی
تھی،جن میں میرے ممدوح نے مشرق کی اہمیت، اولیت اور تخلیقی برتری پوٹرےکی
تھی، اشعار کی سلاست، تشبیہات اور استعاروں کا کیاکہنا۔ اشعار پڑھے جاچکے تو
سلیم بھائی نے سراج کی طرف رخ کر کے پوچھا" کیوں مولانا کیا کہتے ہو۔" سراج
نے یہاں وہاں نظر دوڑائی اور مشرق کے حوالے سے ایک دل پذیر تقریر آغاز
کی۔اس کی گفتگو میں کتنے ہی مغربی اور مشرقی مشاہرین کے حوالے ٹنکے ہوئے
تھے۔میرا خیال ہے اس نے اشعار کی تحسین کا حق ادا کردیا، شام اتر آئی تھی
محفل برخاست ہوئ تو سلیم بھائی بھی شیروانی ڈاٹ کر ہمارے ہمراہ ہولیے۔ان کی
منزل تین ہٹی پر ناگوری کا ہوٹل تھا جہاں ان کے متوالےان کی آمد کا بےچینی
سے انتظار کیا کرتے۔ سراج جانے کدھرکو ہولیا اور میں نے اپنے ٹھکانے کی
راہ لی۔
شاہ فیصل کالونی کا سلطانیہ ہوٹل حسب دستور آباد تھا میں لپکتا ہوا اوپری
منزل پر پہنچا ہماری منڈلی جمی ہوئی تھی۔ثروت حسین، شوکت عابد، مختار حیات
اور افضال سید بڑی محویت سے"میر تقی میر کی شاعری میں لسانی تہذیب "کے
موضوع پر احمد جاوید کا مکالمہ سن رہے تھے۔میں خاموشی سے ایک طرف کو ہو کر
بیٹھ رہا۔وہ سب اس استغراق سے اس گفتگو میں گم تھے کہ انہوں نے میری آمد کا
نوٹس ہی نہ لیا۔وہ تو جب چاند میاں نے چائے کی پیالی میز پہ پٹخی تو سب کی
محویت ٹوٹی ثروت مجھے دیکھ کے مسکرائے ،شوکت نے آنکھیں چمکائیں اور مکالمہ
وہیں سے آغاز ہوگیا۔ یہ گفتگو کے آخری مراحل تھے، جاوید نے گفتگو سمیٹی،
مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔" ممتاز کہاں لاپتہ ہو؟ "میں نے
مسکرا کر جواب دیا " سراج کے ساتھ مسکن عزیز گیا تھا'" جاوید نے خوش ہو کر
ہنکارہ بھرا۔" تو تمہیں بھی راستہ مل ہی گیا۔" میں دھیرے سے بدبدایا" ہاں
لیکن راستہ مل جانے کا مطلب منزل مل جانا نہیں ہے ،یار بہت لمبا سفر ہے۔"
جاوید نے مسکرا کر کہا" خوب ایک ملاقات میں ہی زبان کی گرہ کھل گئی۔" سلیم
بھائی کے تذکرے پر افضال کے چہرے پر ناگواری کے رنگ تھے،اور سب نے خوشی کا
اظہار کیا،مختار حیات نے چپ سادھ لی۔مجھے افٖضال کے ردعمل پر حیرت نہیں
ہوئی، وہ اس سے پہلے بھی سلیم بھائی کے انداز نشست تک پر تنقید کرچکے تھے۔اب
جاوید ،افضال سے غزل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس نے دھیمی آواز اور ٹوٹے الفاظ
میں غزل پڑھی۔ یہ پیچیدہ فارسی تراکیب سے مزین غزل تھی لیکن اس کے اشعار
میں دم تھا، مجھے یہ دراز قامت وجیہہ جوان پسند تھا، آخر یہ محفل بھی انجام
ہوئی اور میں اورجاوید گھر روانہ ہوگئے،جاوید ان دنوں ہمارے گھر مقیم تھے۔
علم کے جویا کو بھنک بھی پڑ جائےکہ کہیں علم بٹتا ہے تو پھر وہ کیسے باز
رہ سکتا ہے۔ اب میں بھی سراج کی تاک میں رہنے لگا تھااور اسی کے ساتھ
دوستوں سے سلیم احمد کے بارے میں کرید کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔معلوم ہوا
سلیم بھائی کے کئی اہم مضامیں ملک کے معتبر جریدوں میں شائع ہوکر شہرت
پاچکے ہیں، وہ شاعری میں طاق ہونے کے باوجود بہت کم مشاعروں میں شرکت کرتے
ہیں ریڈیو پر ان کے لکھے ڈراموں کی دھوم ہے۔ ملک میں ٹیلی وژن اپنی نشریات
آغاز کر چکا تھا اور اسی کے ساتھ ہمارے ممدوح کی مصروفیات بھی دو چند ہو
چکی تھیں۔ اب سلیم بھائی روبہ زوال ریڈیو اور ٹی وی کے لیے بھی ڈرامے وغیرہ
لکھ رہے تھے، ریڈیو کی رونقیں تیزی سےاجڑ رہی تھیں، بولتی تصویر کو محض
آواز پر غالب توآنا ہی تھا۔اب مسکن عزیز کا پھیرا اتوار کو ہی ہوا کرتا۔
سلیم بھائی کی کتاب "چراغ نیم شب" تازہ تازہ شائع ہوئی تھی اور اس کی گونج
ملک بھر میں تھی۔اسی دوران ایک اتوار کو میں اور سراج مسکن عزیز پہنچےتو
بیٹھک بھری ہوئی تھی۔سلیم بھائی خاصی ترنگ میں تھے،انہوں نے چہک کر سراج
سے سوال کیا۔" کیوں مولانا کتاب دیکھی؟" سراج جواب میں کچھ نہ بولا اپنے
خالی تھیلے سے جسے میں زنبیل کہا کرتا تھا کچھ کاغذ نکالے۔ سلیم بھائی
نےبستر کی اجلی چادر پر سنبھل کر بیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگائی، گول تکیہ پہلو
میں دبایا اور آنکھیں موند لیں، یہ مضمون آغاز کرنے کا اشارہ تھا ۔ کمرے
میں سراج کی آواز اپنا جادو جگا رہی تھئ۔
وہ سلیم احمد کی شاعری اور شخصیت اور تنقید اور کسری انسان اور ان کی ذات
میں جاری جنگ و جدل اورمحمد حسن
عسکری اور رضا آراستہ اورجیمزجوائس اور ہومر‘ ایلیٹ اور ایزرا پاؤنڈ اور
ان کی کتابوں کے حوالے سے
اٹھنے والے تنازعات اور انسان اور

آدمی اور طویل نطم "مشرق" جو اسے جیمز جوائس کے نیم منظوم ناول کے قبیل
کی چیز محسوس ہوتی تھی پر بے تکان بول رہا ہے۔
اور آخر میں مجدد الف ثانی جو اس کی سب سے سچی محبت ہے۔تعجب ہوتا ہےکہ سراج
منیر نے
اس ایک مضمون میں سلیم احمد جیسے پرت دار انسان کےمزاج‘،میلانات‘
اندازفکر ا ورشخصیت کے بہت بڑے حصے کو
کس طور کمال مہارت سے سمیٹ لیا ہے۔سلیم بھائی چہکے" میاں آپ ایسے
صاحب رائے کو اتنے حوالوںکی کیا ضرورت؟ یہ تو اپنی بات کی وضاحت کے لیے دیے
جاتے ہیں۔" سراج چمکا۔´سلیم بھائی حوالے اپنی بات کی ؤضاحت کے لیے بھی تو
بیان مین میں آتے ہیں۔
سلیم بھائی نے گویا چھیڑ کی۔" ہاں صاحب ہم نیم خواندہ لوگوں پر اس سے آپ
کی علمیت کا رعب بھی تو پڑتا ہے۔؟ کمرہ قہقہوں سے کونج اٹھا جس میں سب سے
اونچی آواز سراج کے قہقہے کی تھی۔۔
ایسی ہی ایک محفل میں ایک روز کراچی میں شاعری کا مستقبل زیر بحث تھا۔ سلیم
بھائی نے سب کا کہا سنا پھر لب وا کیےتو ایک عجیب بات کہی فرمایا۔" کراچی،
سمندر کا پڑوسی ہے،اس میں بڑی شاعری کے امکانات موجود ہیں۔" میں اس جملے
کی پوری تفہیم سے تو قاصر رہا لیکن یہ ظاہر تھا کہ وہ اس شہر میں شاعری کے
مستقبل سے بہت پُر امید ہیں۔افسوس اب تک ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو
سکا۔ سلیم بھائی کو معروف شاعر شہزاد احمد نے ایک بار لاہور سے لکھا،سلیم
صاحب آپ اپنے کھرے سکے کو نہیں چلنے دیتے ہم یہاں اپنے کھوٹے سکے تک چلا
دیتے ہیں۔ یہ بات ان کے لیے کسی نشتر سے کم نہ تھی وہ کئی روز تک آزردہ رہے
اور زیادہ شد و مد سے نئی لکھنے والوں کی ہمت افشائی پر کمر بستہ ہوگئے۔
یہ اور بات کہ عبید اللہ علیم کی کتاب " چاند چہرہ ستارا آنکھیں" پر ان کے
مضموں نے شاعر کو تخلیقی سطح پر ہلاک کر دیا۔ اس میں سلیم بھائی کا کوئی
دوش نہیں تھا، انہوں نے اپنے تئیں تو نہایت ایمان داری اور سچائی سے اپنی
رائے سپرد قلم کی تھی، یہ علیم کی اپنی ناسمجھی تھی کہ اس نے ان کی اس
تحریر کو حرف آخر جانا اور اڑا اڑا پھرا۔وہ یہ بات بھول گیا تھا کہ شاعری
مسلسل ارتکاز اور مطالعے کی طالب ہوتی ہے۔
وقت اپنی معین رفتار سے رواں دواں تھا اس دوران سلیم بھائی کی چار کتابیں
بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور کلیات مارکیٹ ہوچکی تھیں جب کہ ان کی طویل
نظم مشرق پر ہنوز کام جاری تھا،ان کے انگنت مضامین اور ریڈیو ٹی وی کے لیے
لکھے ڈرامے اس کے علاوہ تھے لیکن یہ شہر سنگ دل کسے جینے دیتا ہے۔ یہ تمام کام نہایت اہم اور لائق
تحسین تھا لیکن یہ شہر سنگ دل چرکے لگانے سے کب باز آتا ہے۔ ایک حساس اور
تخلیقی انسان اس رویے پر شی زو فرینیا ایسے موزی عارضہ میں مبتلا نہ ہو
جائے تو کہاں جائے؟ مجھے یاد آیا کہ اس سے قبل تازہ کار شاعر ثروت حسین بھی
ن اسی قبیل کی بیماری کا شکار ہوا تھا ہم سنتے کہ سلیم احمد تواز
کھو بیٹھے ہیں اور رات رات بھر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کلام پاک کی تلاوت
کیا کرتے ہیں لیکن سلیم بھائی ایک بہادر آدمی تھے وہ جلد ہی اس بھنور سے
نکل آئے۔ اس دوران بہت کچھ تبدیل ہو چکا تھا ۔احمد جاوید شگفتہ سے شادی رچا
کر ایک دھکتے جہنم میں چھلانگ لگا چکے تھے، سراج منیرکراچی کو خیرآباد کہہ
کر لاہور جا بسے تھے اور میں جس نے تمام عمر دنیا کو جوتے کی نوک پہ رکھا
تھا وہ اب مجھے کم زور دیکھ کر مجھ پر چڑھ دوڑی تھی۔ مجھے وہ پرانا زمانہ
یاد آتا تو میں تعجب سےسوچتا جس شہر میں حسن عسکری، مجتبی حسین، عزیز حامد
مدنی، کرار حسین اورمشفق خواجہ ایسے مشاہیر اقامت رکھتے تھے اس میں میرے
ممدوح نے کس کمال سے اپنے لیے الگ سے ایک راہ نکالی اور خود کو منوا کر دم
لیا۔ وہ اب بھی ادب کے منظر نامے پر اسی آب و تاب سے نمایاں تھے۔
ریڈیو اجڑ چکا تھا اب وہاں کیا دھرا تھا کہ کوئی جاتا۔ میں نے سنا کہ سلیم
احمد نے عسکری صاحب کو ترک کر دیا ہے۔ یہ اطلاع میرے لیے کسی دھچکے سے کم
نہ تھی ، میں واقف تھا کہ سلیم بھائی کی تخلیقی شخصیت میں عسکری نے کتنا
اہم کردار ادا کیا۔ میں کبھی بھی اس واقعے کا منطقی جواز تلاش نہ کر سکا۔
جن دنوں احمد جاوید انچولی کے قریب سکونت رکھتے تھے۔تو سلیم بھائی اکثر شام
ڈھلے جاوید کے دروازے پر چلے آتے اور جاوید کے ہم راہ قریبی چائے خانے میں
جا بیٹھتے، ان دونوں کی گفتگو کا محور وحدت الوجود، ابنعربی اور مجدد الف
ثانی ہوتا ۔شگفتہ سلیم بھائی کی آمد پر بد مزہ ہوا کرتی۔ اس کا کہنا تھا وہ
جاوید کو کسی ایسے ہینگر کی طرح استعمال کرتے جس پر اپنے نظریات بار کیے
جاسکیں۔۔آخر وقت نے گھیر گھیر گھار کر مجھےایک چہاردیواری کا پابند بنا دیا اور
ایک عورت مجھ پر نگراں مقرر کر دی گئی۔اب لازم تھا کہ میں روزگار کی راہ
دیکھوں سُو ملازم ہوکر اندروں سندہ چلا گیا اورکئی برس تک دنیا سے کٹا رہا
تاہم شوکت سے میرا خطوط کےزریعے رابطہ تھا ان کے حوالے سے مجھے آخری اطلاع
یہ ملی کہ وہ اچھے بھلے معمول کی سرگرمیوں میں مشغول تھے کہ ایک رات ایسے
سوئے کہ پھر کبھی نہ جاگے۔اب میرے پاس ان کے حوالے سے لکھنے کوکچھ نہیں
رہا۔ بس چند آنسو ہیں جو ان کی نذر کرتا ہوں۔ ان کی زندگی کا ایک باب ختم
ہو گیا لیکن۔۔۔ میر نے کیا خوب کہا ہے:
مرگ واماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

Offline Zahida Raees Raji

  • Administrator
  • *****
  • Posts: 6836
  • Karma: 356
    • Baask-Home of Baluchi Language, Literature & Culture
بھید بھری، سارا شگفتہ

بھید بھری نے خانہ بدوشی کو ترک کیے بغیر دیواریں، دروازے اور روشنیاں اختیا رکرلی تھیں۔ شاید اس طرح وہ نادانستگی میں سرزد ہوجانے والی اپنی کسی خطا کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی لیکن خانہ بدوشی کو کسی میلی بنیان کی طرح اتار کر نہیں پھینکا جاسکتا ،سو وہ خود پریہ سزا لاگو کرنے میں ناکام رہی اور لہو اس کے بدن میں ابلتا رہا اور وہ ایک عالم وحشت میں اپنے ارد گرد دیواریں بناتی اور ڈھاتی رہی۔وہ ایک مکمل اکیلا پن تھا جس کے ساتھ اس نے جنم لیا اور اسی کے ساتھ جان دے دی۔ جیسے جیسے اس منفرد عورت کے گرد ہجوم بڑھ رہا تھا اس کے بے دھڑک قہقہوں میں پنہاں طلسم بھی گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتا جارہا تھا۔سارا شگفتہ ایک بے حد پراسرار عورت تھی۔ جس کی شخصیت کسی ایسی دل چسپ پہیلی سے کم نہ تھی جس کا بوجھنے میں ہر شخص دلچسپی رکھتا تھا۔ جب سے وہ حلقۂ شعر و ادب میں متعارف ہوئی اور جب تک جیتی رہی، کتنے ہی جان فروش اسے دریافت کرنے کی لگن میں سر دھڑ کی بازی لگائے رہے۔ لیکن وہ پہیلی ہی کیا جسے بوجھ لیا جائے۔ُ سو سارا شگفتہ بھی مرتے دم تک ایک سربستہ راز رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ اپنی شخصیت کے اس انوکھے پن سے وہ خود بھی لطف اندوز ہوا کرتی تھی۔ اس لیے کہ جب کبھی اس نے اپنی ذات کو لپیٹے ہوئے کسی پردے کو چاک کیا تو اس سے سارا شگفتہ کی شخصیت توخیر کیا واضح ہوتی، ہاں کچھ اور نئے سوال ضرور جنم لے لیا کرتے تھے۔ یہ عورت کون ہے اور اسے کس نے حلقۂ شعر و ادب میں متعارف کرایا؟ یہ کوئی لمبی چوڑی کہانی نہیں ہے۔ شامت اعمال کہ احمد جاوید کی بیروزگاری پر نورجہاں نوری کو ترس آیا اور اس نے ہمارے شاعر دل نواز کو محکمہ بہبود آبادی میں موٹیویٹر کی معمولی ملازمت پر تعینات کرا دیا۔ احمد جاوید نے بھلا کاہے کو سوچا ہو گا کہ جن نعمتوں کو ترستے بلکتے وہ آدھی زندگی گزار چکا ہے وہ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کا مقدر بننے کو ہیں۔ اس غریب کو تو اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک ہولناک تجربے کا ایندھن بننے جا رہاہے۔ جی ہاں، میں نے متضاد اور شاید مبہم بات کی ہے ،لیکن کیا کیجیے کہ سچ یہی تھا۔۔۔ اچھا! تو آپ چاہتے ہیں میں ا پنی بات تفصیل کروں چلیے یہی سہی تو آئیے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ سارا شگفتہ دکھائی کیسی دیتی تھی اور اس کے پس منظر کے حوالے سے بھی واقفیت کے بغیر ہم شاید ہی اس کی شخصیت کو پورے طور پر سمجھ سکیں۔بادام بوٹے کا سا قد، گہری سانولی رنگت، کسی بخیل کی جیب جیسی تنگ پیشانی اور ننھی منی ناک سے جڑی دو چھوٹی چھوٹی چمک دار، پراسرار آنکھیں، مختصر سا دہانہ، پتلے پتلے ہونٹ اورکیڑا لگے خربوزے جیسے بجھی سفیدی لیے دانت، چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیر اور ہونٹوں کے بائیں کنارے پر ایک بڑا سا مسّاجو کسی اہم معاملہ پر غور کرتے ہوئے مسلسل اس کی انگشت شہادت کی دست برد کا شکار رہتا اور ترشے ہوئے روکھے بے رونق بال، جن پر اس نے ہمیشہ بہت کم توجہ رکھی اور ایک بال ہی کیا بظاہر تو وہ اپنے پورے وجود ہی کو نظر انداز کیے ہوئے تھی۔ جس جنم جلی کا ماضی راکھ ہو گیا ہو وہ اپنے حال ہر کیا توجہ رکھے ۔میں نے بہت کم اس میں اُس اہتمام سے نظارہ کیا جو خواتین کا خاصہ ہوا کرتا ہے شاید وہ اس رازسے آگاہ تھی کہ آرایش بناؤ سے بڑھ کر بگاڑ کا سبب بھی بن جایا کرتی ہے۔ اور لباس بے جوڑ، ملگجا اور بدرنگ جیسے خوش لباسی کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ یہ ایک سوچی سمجھی بے نیازی تھی جس سے وہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ مصنوعی سہاروں کے بغیر بھی اتنی ہی موثر اور مہلک ہے جتنا وہ یہ اہتمام کر کے ہو سکتی تھی ، وہ واقف تھی کہ وہ جن لوگوں کو نشانہ پر رکھے ہوئے ہے وہ ان پر جہاں ہے اور جیسی ہے کی بنیاد پر بھی اپنا رنگ جماسکتی ہے؟ اس کی یہ سوچ اپنی ذات پر اس کے بے پناہ اعتماد کی مظہر تھی۔ سارا شگفتہ جب ہمارے حلقہ میں آئی تو وہ دوباقاعدہ شادیوں اور چند بچوں کا تجربہ رکھتی تھی۔ وہ ایک کوچوان زادی تھی اور ایک تنگ و تاریک مکان میں مجبوری، محرومی اور ناکامیوں کو سینے سے لگائے پیا دیس سدھار دی گئی تھی۔ اس کے بعد کی طویل زندگی ایک سیاہ غلاف میں لپٹی ہوئی مجبوری، محرومی اور ناکامیوں کو سینے سے لگائے پیا دیس سدھاری تھی۔ اس کے بعد کی طویل زندگی ایک سیاہ غلاف میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیاس بتاتا ہے کہ بہت سی دوسری غریب اور بدنصیب لڑکیوں کی طرح اس کے والدین نے اسے جہالت کی بھینٹ چڑھادیا اور ازدواجی زندگی کا پہلا اور دوسرا تجربہ کسی رستے ہوئے ناسور کی طرح تمام زندگی اسے ڈستا رہا۔ زندگی کا یہ ڈھنگ اگر آدمی کو اشتعال اور انتقام کی طرف لے جائے تو اس میں تعجب کی کوئی محل نہیں ۔ سارا شگفتہ، لگتا ہے کہ طویل مدت تک ایک جہنم میں جلتی رہی اور جب اس نے اس سے چھٹکارا حاصل کیا تو وہ خود نفرت سے دہکتا ہوا شعلہ بن چکی تھی۔ ایسے افراد کے لیے جو طویل مدت تک ظلم و ستم سہتے رہے ہوں اور جن کے خوابوں اور خواہشوں کو حقارت سے کچلا جاتا رہا ہو، ان کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیارا ت کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے؟سو ہم دیکھتے ہیں کہ سارہ شگفتہ نے اپنی ساری زندگی ایسے معیارات کو پائمال کرتے گزاری اور وہ جسے اس کی ذہانت اور چالاکی خیال کیا گیا، وہ محض اس کے مشاہدہ کی قوت اور اس تلخ زندگی کا تجربہ تھا جو وہ گزار چکی تھی۔ دراصل سارہ شگفتہ کے لیے یہ دنیا کسی میدان کارزار سے کم نہ تھی جہاں وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی اور جب انسان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو تواس کے لیے ہر چیز جائز ہوا کرتی ہے۔ یہی سبب تھا کہ میں نے کہا شامت اعمال کہ احمد جاوید کو اس محکمے میں ملازمت ملی جہاں ہماری بھید بھری پہلے سے ملازم تھی۔ اس کلینک میں لڑکیوں کے نرغے میں احمد جاوید اکلوتے مرد تھے اور سونے پہ سہاگا یہ کہ وہ تمام لڑکیاں بے حد گھاگ اور بھائی جاوید شرمیلے شاعر اور ناتجربہ کار اور اس پر طرہ یہ کہ محروم اور ترسے ہوئے۔۔۔ آدمی خوش شکل تھے کئی کی نظروں میں چڑھے ہوں گے لیکن کٹی پتنگ کی طرح انہیں اچک لیا سارا شگفتہ نے اور جیسا کہ ہوتا ہے احمد جاوید بھی محبت کے اس نئے ذائقے میں مدت تک سرشار پھرے اور سارا شگفتہ بڑی سہولت، سلیقے اور ہنرمندی سے انہیں کستی چلی گئی۔ میں نے عرض کیا کہ سارا شگفتہ واجبی سی شکل و صورت کی عورت تھی لیکن اس کی شخصیت میں کمال کا تواز ن موجود تھا اور حسن دراصل توازن ہی کا تو نام ہے۔ سارہ میں یہ توازن جس نے دریافت کیا اسے پھر کبھی مسکراتے نہیں دیکھا گیا ۔اور پھر وہ دن جب بندر روڈ کی ایک بوسیدہ سی عمارت کے تنگ و تاریک کمرے میں مٹھائی کے ڈبے پر پڑھائے جانے والے نکاح میں منظر امام اور ممتاز رفیق نے گواہ کی حیثیت سے دستخط کیے۔ کون جانتا تھا کہ اس کرم جلی کا شادی کا یہ تیسرا اور پھر چوتھا تجربہ بھی ناکام رہے گا۔ لیکن نہیں فی الحال تیسری شادی پر ہی ٹکتے ہیں۔ ہماری ممدوحہ کے بدن میں دہکتی آگ نے نوخیز احمد جاوید کو خاکستر کرکے رکھ دیا لیکن کمزور ہی سہی ایک چھت سارا شگفتہ کو میسر آچکی تھی اور محروم اور خواب زدہ لوگوں کا ایک پورا ریوڑ کا ریوڑ۔ بھید بھری کی خانگی زندگی کے دلدّر اپنی جگہ لیکن اتنے باعزت احمق اسے پہلے کہاں نصیب ہوئے تھے ۔ایک عجب شادمانی اور دلبستگی تھی جو دل ہارنے والوں کی لمبی قطار کے نظارے سے اس پر طاری ہوئی جاتی تھی۔ ایک طرف احمد ہمیش تھے کہ اپنی اساطیری کہانیوں سے اسے رجھانے میں جٹے ہوئے تھے تو دوسری طرف وہ بینکر لڑکا علی اعجاز تھا جو اپنی آنکھیں اس کی دہلیز پر گاڑ آنے کا عندیہ دے رہا تھا اور پھر فرنیچ بل(قمر جمیل) تھے کہ انہیں سارا شگفتہ کی شکل میں نثری نظم کا مستقبل جگمگاتا نظر آرہا تھا۔ سارا شگفتہ کی شخصیت میں ایک چنگھاڑتا ہوا سستا پن تھا جو ان ڈرے دبکے مہذب لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کرلیا کرتااور وہ چاروں خانے چت ہوجایا کرتے تھے۔ جو لوگ سارہ کے شخصی حسن سے بچ نکلتے انہیں وہ ان کی معاشی مجبوریوں کے عوض باندھ لیا کرتی تھی۔ اس کے پاس ہتھ کڑیوں کے کئی ایک جوڑے موجودتھے۔ سارہ کے شیدائیوں میں سب سے جدا اور سب سے کامیاب افضال احمد سید تھے جو بے حد خاموشی اور ہنرمندی سے سارا شگفتہ کے اس تیسرے تعلق کی جڑیں کھود رہے تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اٖفضال کو مورود الزام قرار دینا اتنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ان دونوں کا رشتہ اتنی بودی بنیادوں پر استوار ہوا تھا کہ اسے کوئی بھی ذرا سی کوشش سے ڈھا سکتا تھا۔سارا شگفتہ پر احمد جاوید کی واحد برتری علم اور شعر کہنے کی صلاحیت تھی علم سے رشتہ استوار کرنا تو شاید بھید بھری کے بس سے باہر تھا لیکن اپنی زندگی کے پہلے مصرعہ کے ساتھ وہ احمد جاوید کی شاعرانہ حیثیت کوچیلنج کرچکی تھی۔ اسلام آباد میں سارا نے یہ مصرعہ میرے سامنے لکھا۔نابینا کی جھولی میں دو روشن آنکھیں ہوتی ہیںلیکن غالباً یہ پہلا اور آخری پابند مصرعہ تھا اس کے بعد سارا شگفتہ نے صرف نثری نظمیں لکھیں اور واقعی شہرت کے لحاظ سے احمد جاوید کو کوسوں پیچھے چھوڑ گئی۔ اس کے شاعرانہ کمال کا اعتراف یہاں سے بھارت تک کیا گیا بلکہ جدید خواتین جن میں ہندوستان سے امرتا پریتم اور پاکستان سے فہمیدہ ریاض شامل ہیں انہوں نے توسارہ شگفتہ کی مداحی میں صفحات کے صفحات سیاہ کر ڈالے اور نور الہدیٰ شاہ نے شگفتہ کی زندگی پر پوری ٹی وی سیریل لکھ ڈالی اور پھر چوتھی شادی جس کے دولہا افضال احمد سید تھے۔ یہ ایک ناگوار صورت حال تھی لیکن جلد ہی میں نے جان لیا کہ تیسری شادی کو کوئی بھی انجام پر پہنچاسکتا تھا یہ بدنصیبی اور اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب ایک دوست کے ہاتھوں انجام پذیر ہوا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھید بھری میں آخر ایسا کیا تھا کہ ہر فرد اس کے ہاتھوں بہ رضا و رغبت شہید ہونے کو آمادہ تھا؟ ہاں جناب وہ ایسی ہی طلسمی لڑکی تھی اور اپنی اس شخصی مقناطیسیت سے پوری طرح باخبر تھی اور اس کی ذات کا وہ بے حد و حساب اعتماد بھی اس کی اسی خود آگاہی کا نتیجہ تھا۔ وہ واقعی ایک عجیب لڑکی تھی جب کبھی چیزیں بنانے بگاڑنے سے فرصت پاتی تو اپنے ہم جنسوں کی تلاش میں بھٹکتی پھرتی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں غائب ہوجایا کرتی ہے اور نہ ہی کوئی یہ جان سکا کہ اس کا سیاہ پرس جو نوٹوں سے بھرا رہتا ہے تو اس کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟جدید ہوش مندوں کے لیے بھید بھری میں بڑی کشش تھی کہ وہ اس نہایت زیرک اور ذہین عورت کو نفسیات کا ایک الجھا ہوا کیس سمجھتے تھے۔ وہ اس سے بیک وقت خوف زدہ بھی رہتے اور اس میں دلچسپی بھی رکھتے تھے کہ وہ صحرا کی ہوا کی طرح منہ زور اور سمندر کی طرح تلخ ہونے کے ساتھ ہی ساتھ کسی گھنے پیڑ کی طرح مہربان اور دریاؤں کی سی کشادہ دلی کے وصف سے بھی مزین تھی۔ تمیزدار لوگوں کا یہ گروہ جو اپنی چھوٹی چھوٹی سچائیوں اور بدرنگ آئینوں کی صداقتوں پر زندہ تھا وہ کسی ایسی شفاف اور تیز رو ندی کے ساتھ کیوں کر چل سکتا تھا جو عکس کو امانت کی طرح لوٹا دیتی تھی۔ میں نے لوگوں کو اس سے لڑتے، ڈرتے اور محبت کرتے دیکھا۔ میں اس کی محبتوں اور نفرتوں کا ایک ایسا گواہ ہوں جس پر اس نے نہ کبھی زیادہ توجہ دی اور نہ ہی کبھی نظر انداز کیا کہ وہ غیر اہم لوگوں سے تعلق رکھنے کو وقت کا زیاں خیال کرتی تھی۔ اسے ٹوٹے ہوئے آئینے بے حد پسند تھے وہ انہیں کھوجتی، کرچی کرچی جمع کرکے جوڑتی اور جب آئینہ مکمل ہوجاتا تو یا تو اسے دوبارہ توڑ دیتی یا پھر چھوڑ چھاڑ کر آگے بڑھ جایا کرتی۔ میرے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جب کہ احمد جاوید اور افضال احمد سید اس کی نمایاں ترین مثالیں ہیں۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟ آئینہ جوڑنا خود کو زخمی کرنے کا ایسا عمل ہے جو اس کام کے کرنے والے سے پورے انہماک، خلوص اور توجہ کا طالب ہوتا ہے۔ بھید بھری نے یہ کام اس کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے کیا لیکن اس طرح کہ اس کا اپنا کوئی مطالبہ نہ تھا جیسے یہ محض وقت گزاری کا ایک مشغلہ ہو۔ گویا اس کے لئے یہ محض ایک کھیل تھا یا پھر خود کو سزا دینے کا ایک نیا ڈھنگ کہ وہ اس سنجیدہ سرگرمی کو بھی محض ایک کھیل سمجھتی رہی۔ لیکن بہرحال میں یہ جانتا ہوں کہ سارا شگفتہ ایک پورے قد کی عورت تھی اور اس کے کھیلیاکسی عمل کو تماشا کہنا دراصل اس کی تذلیل کرنا ہے۔ شاید وہ کوئی ایسا آئینہ تلاش ہی نہ کرسکی جو اس کی وحشت کو پوری طرح منعکس کرسکتا۔ دراصل وہ خود کو اپنے پورے وجود کے ساتھ دیکھنے کی آرزو مند تھی۔ یہ خطا اس کی نہیں ہے کہ وہ آئینہ تلاش کرنے میں ناکام رہی یہ درحقیقت ان آئینوں کی کم طاقتی ہے جو اسے پوری طرح جذب اور منعکس نہ کرسکے۔آئینے بنتے اوربکھرتے رہے اور آخر تھک ہار کر اس نے شاعری اختیار کی کہ اب وہ چاہتی تھی کہ اپنا آپ دھوپ کی طرح ظاہر کردے۔ لفظ زندہ ہوتے ہیں لیکن ان کی ایک خصوصیت انہیں دوسرے جان داروں سے ممتاز کرتی ہے اور وہ چیز ان کی بے پناہ قوت ہے اور وہ بھی جو لفظ کو پوری سچائی سے اختیار کرلے وہ بھی نہایت طاقت ور ہوجاتا ہے پھر اسے کسی ندی کی ضرورت رہتی ہے نہ کسی آئینے کی۔ اب خوشبو آہستہ آہستہ پھیلنے لگی تھی اور بکھرے اور بچھڑے ہوئے لوگ ایک مرکز پر اکٹھے ہورہے تھے اور اس مرکز سے جاری ہونے والا ہر لفظ شہر کے لفظ خوروں کو حیران کررہا تھا اور شاعری تو حیران کردینے کا ہی عمل ہے۔ اس نے جو کچھ لکھا اسے شاعری تسلیم کیا گیا۔ سارہ شگفتہ نے جہاں شاعری کو ایک نیا ڈھنگ دیا وہیں اس آفاقی سچائی کو بھی دھچکا پہنچایا کہ اچھی شاعری کے لیے ڈھیروں علم ازبس ضروری ہے۔ اس نے نہایت واجبی سا علم حاصل کیا تھا۔ یہ علم اتنا بھی نہیں تھا کہ ہم کہہ سکتے کہ اس کی ذہانت نے کم پڑھے کو زیادہ بنادیا لیکن اس کے باوجود اس نے خوب لکھا اور کیا اچھا لکھا۔ اس کی شاعری کے ساتھ ساتھ اس کی شخصی کمزوریوں سے لپٹی کہانیاں اس کے جلو میں رہیں اور ایک ہجوم جس میں وہ بالکل تنہا تھی۔ گمان ہونے لگا کہ جیسے کوئی نیا قبیلہ وجود میں آنے کو ہے لیکن قبیلے تو وہاں آباد ہوا کرتے ہیں جہاں پھول اگائے جاسکتے ہوں، جہاں پانی بہتا ہو، جہاں مکان تعمیر کیے جاسکتے ہوں اور آگ کی وحشت تو آگ سے مل کر دو چند ہوجایا کرتی ہے۔ ایسا کب ہوا کہ آگ سے گزر کر آگ کندن بن گئی ہو اور اس کے ارد گرد تو دہکتے ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا۔ آگ اور آئینوں سے کھیلنے والی اپنے جہنم میں جھلستی رہی اور آخر توازن کھو بیٹھی اور جب رفتار پر قابو نہ رہے تو آدمی کسی بھی چیز سے ٹکرا کر پاش پاش ہوسکتا ہے سو وہ بھی کہ ایک عمر آہن گر کے ساتھ بتاچکی تھی لوہے سے ٹکرا کرپاش پاش ہوگئی۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک بڑا المیہ نہیں تھا؟ کون جانتا ہے کہ اگر وہ کچھ دن اور زندہ رہتی تو کیا کچھ اور لکھتی جووہ اپنی ناوقت ہلاکت کے باعث لکھنے سے محروم رہی لیکن کیا وہ بھی کم ہے جو اس نے لکھ دیا ہے؟